نئی دہلی:بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف جاری انتقامی کارروائیاں تمام حدیں پار کر گئیں، جس پر خود بھارتی میڈیا بھی بول پڑا ہے۔ معروف بھارتی جریدے "دی نیو انڈین ایکسپریس" نے مودی حکومت کی سرپرستی میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور امتیازی سلوک کی سنگین صورتحال کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔
جریدے کی رپورٹ کے مطابق مسلم دشمنی کی تازہ لہر میں ریاست اتر پردیش کے علاقے غازی آباد میں سرکاری زمین کا مبینہ الزام لگا کر ایک مدرسے کو یکسر مسمار کر دیا گیا ہے، جبکہ دو دیگر مدارس کو زبردستی بند کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ غازی آباد میں مدارس کے خلاف کارروائی کے بعد اب ہندو انتہا پسندوں کے حوصلے اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کے عالمی سطح پر معروف تعلیمی و مذہبی مرکز دارالعلوم دیوبند کو بھی گرانے کی کھلی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔
عالمی مبصرین اور انسانی حقوق کے حلقوں نے "دی نیو انڈین ایکسپریس" کی اس رپورٹ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری سرپرستی میں مسلم املاک اور شناخت کو نشانہ بنانا بھارت کے نام نہاد سیکولر چہرے پر ایک بڑا داغ ہے۔