ماسکو :افغانستان میں عالمی دہشت گرد تنظیموں کے محفوظ ٹھکانوں اور بڑھتی ہوئی نیٹ ورکنگ کی ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر توثیق ہو گئی ہے۔ چھ ملکی سیکیورٹی اتحاد 'کولیکٹو سکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن' (CSTO) نے افغان سرزمین کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سی ایس ٹی او کے سیکرٹری جنرل تالانت بیک ماسادیکوف نے افغان حالات پر باقاعدہ بیان جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں بدامنی کا گراف مسلسل اوپر جا رہا ہے اور وہاں بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیاں پہلے سے زیادہ فعال ہو چکی ہیں۔
سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ افغانستان کی یہ ابتر صورتحال اب محض پڑوسی ممالک تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہاں سے اٹھنے والی بدامنی کی لہر اب ایشیا اور یورپ دونوں خطوں کے امن و استحکام کے لیے ایک مشترکہ اور سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
سیاسی و دفاعی مبصرین کے مطابق، وسطی ایشیائی ممالک اور روس پر مشتمل اس اہم سیکیورٹی بلاک کی جانب سے آنے والا یہ سخت بیان کابل انتظامیہ پر بین الاقوامی دباؤ میں مزید اضافے کا سبب بنے گا، جو مسلسل اپنی سرزمین پر کسی بھی دہشت گرد گروپ کی موجودگی سے انکار کرتی آئی ہے۔