اسلام آباد:وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ صحافی عزیز میمن کے قتل کے معاملے پر سندھ حکومت اپنی پوزیشن واضح کرے۔
وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی 3دن قبل عزیز میمن کے بھائی سے بات ہوئی تھی، وہ اپنے بھائی کے قتل کی تفتیش سے مکمل طور پر غیر مطمئن تھے۔
تین دن پہلے عزیز میمن کے بھائ سے بات ہوئ وہ تفتیش سے مکمل غیرمطمن تھے، اور ظاہر ہے جب مبینہ فاتل خود تفتیش کے نگران ہوں انصاف کیسے ہو سکتا ہے ؟ سندہ حکومت اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضع کرے، مقتول ان کو مجرم ٹھہرا کر گیا ہے اتنی آسانی سے یہ لہو مٹے گا نہیں۔
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) March 5, 2020
فواد چوہدری نے کہا کہ جب مبینہ قاتل خود تفتیش کے نگران ہوں تو انصاف کیسے ہو سکتا ہے، سندھ حکومت اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرے، مقتول ان کو مجرم ٹھہرا کر گیا ہے اتنی آسانی سے یہ لہو مٹے گا نہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پہلے دن شیریں مزاری اور میں نے اسپیکر قومی اسمبلی سے درخواست کی تھی کہ عزیز میمن کے قتل کی تفتیش وفاقی ایجنسی کو کرنی چاہیے، قتل کے پس منظر میں جو حقائق چھپے ہیں ان کی روشنی میں سندھ پولیس تفتیش کر ہی نہیں سکتی۔
پہلے دن اور میں نے اسپیکر قومی اسمبلی کو درخواست کی تھی کہ عزیز میمن کے قتل کی تفتیش وفاقی ایجنسی کو کرنی چاہئے، اس قتل کے پس منظر حقائق کی روشنی میں سندہ پولیس اس کی تفتیش کر ہی نہیں سکتی، سندھ پولیس نے جس طرح اس قتل کو طبعی موت قرار دیا وہ قابل مذمت ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ سندھ پولیس کا قتل کو طبعی موت قرار دینا قابل مذمت ہے، مقتول خود قاتل بتا کر گیا ہے، ایسے کیسے خاموش ہو جائیں، سندھ کے کرتا دھرتا اتنی آسانی سے اس قتل سے نہیں بچ سکتے۔