Get Alerts

چین کی مشرقِ وسطیٰ میں امن کیلئے بڑی پیشکش: "جنگ بندی کیلئے ثالثی اور خصوصی ایلچی بھیجنے کا اعلان

چین کی مشرقِ وسطیٰ میں امن کیلئے بڑی پیشکش:

بیجنگ: عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے تناظر میں چین نے ایک بار پھر خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے فریقین کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے فوری طور پر خصوصی ایلچی بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بیجنگ میں میڈیا بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ چین خطے میں خونریزی روکنے اور سفارتی حل نکالنے کے لیے کوشاں ہے۔ ان کے خطاب کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔ چین نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر عسکری کارروائیاں بند کریں تاکہ مزید انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنا نمائندہ خصوصی مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چین کا موقف ہے کہ کشیدگی میں اضافے سے نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی تجارت اور معیشت بھی شدید متاثر ہوگی۔ترجمان چینی وزارتِ خارجہ نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو عالمی معیشت کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہاآبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے دنیا کی اہم ترین گزرگاہ ہے۔ اس خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنا صرف چین کی نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کے سخت فوجی موقف کے مقابلے میں چین کا یہ "سافٹ پاور" (Soft Power) اقدام عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ چین اس سے قبل بھی ایران اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی صلح کروا کر اپنی سفارتی مہارت کا لوہا منوا چکا ہے۔

ٹیگز: