پائلٹوں کے لیے کم کام زیادہ آرام کی   انوکھی تجویز 

 پائلٹوں کے لیے کم کام زیادہ آرام کی   انوکھی تجویز 

نئی دہلی: پائلٹوں کے لیے کم کام اور زیادہ آرام کی انوکھی تجویز دی گئی ہے۔ ہندوستان کے ایوی ایشن واچ ڈاگ نے پائلٹوں کے لیے کم کام اور زیادہ آرام کی تجویز پیش کی ہے۔ پائلٹوں کی تھکاوٹ کی بڑھتی ہوئی شکایات کو دور کرنے کے لیے کیے گئے بھارت کے ڈی جی سول ایوی ایشن  کی جانب سے یہ تجویز دو ماہ سے زائد عرصے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس دوران پائلٹوں  کی صحت  کےمسائل کے حوالے سے اعداد وشمار اکٹھے کیے گئے ۔

اس بارے میں انڈی گو کے پائلٹ کی دوران پرواز موت کے بعد  سنجیدگی سے غورکیاگیا۔  رات کو کام کرنے والے پائلٹوں کے لیے زیادہ سے زیادہ فلائٹ ڈیوٹی کی مدت کو 13 گھنٹے سے کم کر کے 10 گھنٹے اور کم از کم ہفتہ وار آرام کا دورانیہ 36 گھنٹے سے بڑھا کر 48 گھنٹے کرنا شامل ہے۔ڈائریکٹوریٹ نے فوری طور پر مسودے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔


اگرچہ پائلٹ کی تھکاوٹ ایک عالمی مسئلہ ہے  لیکن پائلٹ کے کام کے حوالے سے باقاعدہ غور کے بعد ہی  کچھ فیصلہ کیاجائے گا۔تاہم اس حوالے سے  بھارت کی یئر لائن انڈی گو کاکہنا ہے کہ  مرنے والے پائلٹ نے ڈیوٹی سے پہلے 27 گھنٹے کا وقفہ کیا تھا اور اس کی صحت اچھی تھی۔

مصنف کے بارے میں