لاہور: محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر کی فیڈ ملز میں گندم کو مرغیوں کی خوراک میں استعمال کرنے پر عائد پابندی میں 30 دن کی توسیع کر دی ہے۔ محکمہ داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ گندم کی انسانی استعمال کے لیے بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس پابندی کا اطلاق 1 دسمبر 2025 تک ہوگا۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ گندم صرف فلور ملز میں آٹے کی تیاری کے لیے استعمال کی جائے گی، تاکہ گندم، آٹے اور روٹی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب نے اس فیصلے کو ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144(6) کے تحت نافذ کیا ہے۔
موجودہ وقت میں پنجاب کی فیڈ ملز کے پاس ایک لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کا ذخیرہ موجود ہے، جو مرغیوں کی خوراک کے طور پر استعمال ہونے والی تھی۔ تاہم، سیکرٹری پرائس کنٹرول کی رپورٹ کے مطابق گندم کا یہ ذخیرہ انسانوں کی بنیادی خوراک یعنی آٹے کی فراہمی میں استعمال ہو گا تاکہ گندم کی کمی نہ ہو اور عوام کو اس کی فراہمی میں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق، اس فیصلے کا مقصد گندم کی آٹے کی تیاری میں استعمال کو ترجیح دینا ہے، تاکہ ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں استحکام رہے اور عوام کو معیاری آٹا بلا تعطل ملتا رہے۔
اس پابندی کا اطلاق یکم دسمبر تک جاری رہے گا، اور اس دوران فیڈ ملز گندم کو مرغیوں کی خوراک کے لیے استعمال نہیں کر سکیں گی۔