اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اور سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط اور پائیدار بنانے کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات ضروری ہیں اور ملک کو برآمدات کا عالمی مرکز بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ یہ بات انہوں نے "دی فیوچر سمٹ" کے نویں ایڈیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں نجی شعبے کا کردار انتہائی اہم ہے، اور یہی شعبہ معیشت کی قیادت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ "پیداوار پر مبنی معاشی ترقی ہی پائیدار راستہ ہے"، اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔ انہوں نے عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی معاشی بہتری کے اعتراف کو خوش آئند قرار دیا۔
محمد اورنگزیب نے اس موقع پر مزید کہا کہ حکومت کا کام صرف ایک معاون نظام فراہم کرنا ہے اور معیشت کی ترقی کے لیے ایک مضبوط "ایکو سسٹم" تیار کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر میں معاشی نظام میں بہتری کی جانب قدم اٹھائے جا رہے ہیں اور پاکستان کو اس کا حصہ بننا ہوگا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اس وقت دنیا کے تیسرے سب سے بڑے فری لانسرز کا مرکز بن چکا ہے، اور اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ ملک کو برآمدات کا عالمی مرکز بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے، اور ڈیجیٹائزیشن سے معیشت میں شفافیت آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی بلیو اکانومی میں بے شمار صلاحیتیں موجود ہیں، جو ملک کی معیشت کے لیے نئی راہیں کھول سکتی ہیں۔
انہوں نے حکومت کی جانب سے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں اضافے کا ذکر کیا، اور بتایا کہ 9 لاکھ نئے فائلرز شامل ہوئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ کارپوریٹ منافع میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے اور گوگل پاکستان کو ایکسپورٹ ہب بنانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی اور میری ٹائم سیکٹرز پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ ان شعبوں میں مزید ترقی ہو سکے۔
آخر میں محمد اورنگزیب نے کہا کہ بلیو اکانومی کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں، اور غیر ملکی کمپنیاں پاکستان کو کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام سمجھ رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ میکرواکنامک استحکام ایک حتمی مقصد نہیں ہے، بلکہ معیشت پر عوام کا اعتماد سرمایہ کاری کی جانب سب سے بڑا محرک ہے۔