تحریر: طارق وسیم
پاکستان کی کامیاب سفارتکاری نے دنیا کو ایک بڑے خطرے سے بچا لیا ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، امریکہ، ایران اور علاقائی ثالثوں کے درمیان ایک اہم ڈیل پر بات چیت جاری ہے، جو ممکنہ طور پر دو مراحل پر مشتمل ہو گی۔ اس منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر 45 روزہ جنگ بندی کی جائے گی تاکہ فوری طور پر خونریزی روکی جا سکے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی ممکن ہو۔آبنائے ہرمز کھولنے کے لیےلائحہ عمل بھی طے کر لیا گیا ہے جسے آئندہ دو سے تین ہفتے میں کھول دیا جائے گا۔
معاہدے کو اسلام آباد اکارڈ کا نام دیا گیا ہے جس کے مطابق ،45 روزہ جنگ بندی کے دوران تینوں ملکوں کی قیادت اسلام آباد میں مزید مذاکرات کرے گی اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اس معاہدے کو چین کی تائید بھی حاصل ہے ،دوسری جانب بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر ایران امریکہ جنگ میں منہ کی کھانی پڑی ہے ۔ تاہم ،اس حوالے سے ایرانی قیادت کا موقف سامنے نہیں آسکا ، چین نے بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے ،چین ویسے بھی اس جنگ میں زیادہ تر خاموش ہی رہا ہے، لیکن اس کا کردار پاکستان کے بعد سب سے زیادہ اہم ہے ۔
ایران نے اس سے قبل جنگ بندی کے لیے جو مطالبات پیش کیے تھے ، ان میں اس پر آئندہ حملہ نہ کرنے ،جنگ کے نقصانات کا ہرجانہ اور آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول شامل تھا ،لیکن اسلام آباد اکارڈ میں ایک ممکنہ قابل قبول حل پیش کیا گیا ہے۔صدرمسعود پزشکیان امریکہ اور مغرب کے لیے کسی حد تک قابل قبول شخصیت ہیں جنہیں کچھ عرصے اسی عہدے پر برقرار رکھا جا سکتا ہے ، لیکن یہ فیصلہ آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد اگلے مرحلے میں ہوگا ۔ایسا ایک تجربہ امریکہ اور پاکستان افغانستان میں بھی کر چکے ہیں، جب اشرف غنی کےسا تھ عبداللہ عبداللہ نے شراکت اقتدار کی تھی ، یہ پاکستان ہی ہے، جس نے موجودہ ایرانی رجیم کے بچے کھچے لوگوں کی امریکہ سے جان بخشی کرائی، تاکہ مذاکرات ہو سکیں، یہی وجہ ہے ایران پاکستان کا شکریہ ادا کرتے نہیں تھکتا ،کسی ملک یا خطے پر طویل عرصے تک قابض رہنے والوں سےایک جھٹکے میں جان چھڑانا مشکل ہوتا ہے ۔طاقت کا حد سے زیادہ استعمال معصوم لوگوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے ،پاکستان امریکہ کو یہی بات سمجھانے میں کامیاب ہوا ہے، لیکن مسئلہ ہے ایران کی عوام کا جن کی بہت بڑی تعداد حکومت کی مکمل تبدیلی چاہتی ہے ۔
آبنائے ہرمز کے کھلنے سے تیل کی قیمتیں کم ہوں گی اور عالمی سطح پر جو بے اطمینانی پائی جاتی ہے اس میں خاطر خواہ کمی ہوگی ۔اسلام آباد اکارڈ کے تحت وقتی طور پر جنگ بندی تو ہو جائے گی لیکن اسرائیل کو جنگ روکنے پر کون آمادہ کرے گا؟ یہ سوال اپنی جگہ حل طلب ہے ،اس کے علاوہ بحیرہ احمر میں مو جود یمنی حوثیوں کے خلاف کارروائی کب ہوگی؟ اور کیا ایران ان کی پشت پناہی بند کر دے گا ؟لبنان میں موجود پاسداران انقلاب کا مستقبل کیا ہوگا ؟ ایسے بہت سے سوالات ہیں جن کا جواب وقت کے ساتھ مل جائے گا لیکن ایک بات بہر حال طے ہے کہ دنیا بدل رہی ہے ،امریکہ اس جنگ کے خاتمے کے بعد مشرق وسطیٰ سے مکمل نہ صحیح لیکن جزوی طور پر ضرور نکل جائے گا ۔ آبنائے ہرمز کا نیا چوکیدارکون ہوگا ؟، اس کا تعین بھی آنے والا وقت ہی کرے گا لیکن یہ اس خطرناک صورتحال میں پاکستان نے کلیدی کردارادا کیا ہے اور پاکستان ایک ذمہ دار ریاست بن کر ابھرا ہے۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے
طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔