Get Alerts

تیل 300 ڈالر فی بیرل، انشورنس 15 ملین ڈالر؛ وفاقی وزیر نے پیٹرولیم بحران کے  حقائق قوم کے سامنے رکھ دیے

 تیل 300 ڈالر فی بیرل، انشورنس 15 ملین ڈالر؛ وفاقی وزیر نے پیٹرولیم بحران کے  حقائق قوم کے سامنے رکھ دیے

اسلام آباد : وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے قومی اسلامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورتحال اور آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سپلائی چین کو تباہ کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 300 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہیں۔
وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ دنیا کی 25 فیصد پیٹرولیم مصنوعات آبنائے ہرمز سے گزرتی ہیں، جس کی بندش سے پاکستان کی ایل این جی سپلائی ختم ہوگئی۔ انہوں نے حقائق پیش کرتے ہوئے کہا   تیل پر پریمیم 5 ڈالر سے بڑھ کر 70 ڈالر تک پہنچ گیا۔    جہازوں کا کرایہ چند لاکھ سے بڑھ کر 2 ملین ڈالر تک جا پہنچا۔    انشورنس کی قیمت چند لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 15 ملین ڈالر ہو گئی۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا 80 فیصد سے زائد تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی لہر کا بوجھ مجبوراً منتقل کرنا پڑا، تاہم حکومت نے عوام کو "آئل شاک" سے بچانے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں۔    وفاقی حکومت نے 50 سے 60 ارب روپے ہفتہ وار بنیادوں پر عوام کو ریلیف دیا۔    عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ملکی ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کی گئی۔    حکومت نے 140 ارب روپے کے خصوصی فنڈز کا انتظام کیا تاکہ قیمتوں کا سارا بوجھ عوام پر نہ پڑے۔
وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ وزیراعظم، عسکری قیادت اور تمام وزرائے اعلیٰ نے مل کر اس بحران سے نمٹنے کی حکمتِ عملی طے کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ  ہم نے فیصلہ کرنا تھا کہ کیا ہم پیٹرول پمپس پر لڑائیاں دیکھیں یا وہ راستہ نکالیں جہاں عوام خود فیصلے کریں۔
اس سلسلے میں ایکسائز ڈیپارٹمنٹ سے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا ڈیٹا جمع کر لیا گیا ہے تاکہ ڈیجیٹل نظام کے تحت ایندھن کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔ اویس لغاری، شزا فاطمہ اور جنید انوار مختلف صوبوں میں بیٹھ کر ترجیحات طے کر رہے ہیں تاکہ سب کو آن بورڈ لے کر اس مشکل وقت سے نکلا جا سکے۔

ٹیگز: