اسلام آباد عالمی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی خاموش مگر مؤثر سفارت کاری کے چرچے زبان زدِ عام ہیں۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاکستان نے دونوں ممالک کو جنگ بندی کے لیے ایک جامع امن منصوبہ ارسال کیا ہے جسے ’اسلام آباد اکارڈ‘ کا نام دیا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے انکشاف کیا ہے کہ اس اہم سفارتی مشن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور پاکستان کی ان کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک اس وقت ’اسلام آباد اکارڈ‘ پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے پیش کردہ تجاویز دو بنیادی مراحل پر مشتمل ہیں۔ پہلا مرحلہ: فوری طور پر جنگ بندی کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا،
دوسرا مرحلہ: ایک مستقل معاہدے کی جانب پیش رفت کی جائے گی۔ منصوبے میں عالمی معیشت کے لیے اہم ترین تجارتی راستے آبنائے ہرمز کو فوری کھولنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، ممکنہ طور پر 45 روزہ جنگ بندی کی شرائط پر تفصیلی بات چیت جاری ہے۔ اگرچہ اگلے 48 گھنٹوں میں کسی جزوی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ظاہر کیے جا رہے ہیں، تاہم فریقین کی رضامندی کی صورت میں مذاکرات کے لیے سیز فائر کی مدت میں مزید توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب، پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس فریم ورک کے حوالے سے فی الحال محتاط رویہ اپنا رکھا ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ میڈیا پر 45 روزہ جنگ بندی اور 15 نکاتی تبادلے کے حوالے سے مختلف رپورٹس سامنے آئی ہیں، تاہم ہم ان مخصوص اور انفرادی معاملات پر تبصرہ نہیں کرتے۔
ماہرینِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ عالمی امن کے لیے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی فتح ثابت ہو سکتی ہے۔