Get Alerts

غزہ جنگ بندی مکمل تب تک نہیں ہو گی جب تک اسرائیل کا انخلا نہ ہو : قطری وزیراعظم کا بیان

 غزہ جنگ بندی مکمل تب تک نہیں ہو گی جب تک اسرائیل کا انخلا نہ ہو : قطری وزیراعظم کا بیان

دوحہ : قطر کے وزیرِاعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے کہا ہے کہ غزہ جنگ بندی مکمل نہیں سمجھی جائے گی جب تک اسرائیلی فوج فلسطینی علاقے سے مکمل طور پر نکل نہ جائے، اور اس کے بعد ہی ایک پائیدار امن ممکن ہو سکے گا۔

دوحہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے کہا کہ ہم اس وقت انتہائی نازک مرحلے میں ہیں، اور جنگ بندی اُس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اسرائیلی فورسز کا مکمل انخلا نہ ہو جائے اور غزہ میں استحکام بحال نہ ہو جائے۔

یہ جنگ بندی معاہدہ 10 اکتوبر سے امریکہ، مصر اور قطر کی مشترکہ کوششوں سے شروع ہوا تھا۔ معاہدے کے دوسرے مرحلے میں اسرائیل کو غزہ میں اپنی پوزیشنوں سے دستبردار ہونا ہے، عبوری انتظامیہ کو حکومتی ذمہ داریاں سنبھالنی ہیں اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) کی تعیناتی کی جانی ہے۔

عرب اور مسلم ممالک اس فورس میں شامل ہونے سے ہچکچا رہے ہیں، کیونکہ خدشہ ہے کہ یہ فورس فلسطینیوں کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔ ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فدان نے بھی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس فورس کی قیادت اور اس میں شامل ممالک کی تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں، اور ان کا کہنا تھا کہ اس فورس کا پہلا مقصد فلسطینیوں کو اسرائیلیوں سے الگ کرنا ہونا چاہیے۔

شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے کہا کہ قطر اور جنگ بندی کے دیگر ضامن ممالک جیسے ترکی، مصر اور امریکہ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگلے مرحلے کی کامیابی کے لیے راہ ہموار ہو سکے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ یہ محض عارضی حل ہوگا اور اس سے دونوں قوموں کے لیے ایک پائیدار حل کی ضرورت مزید بڑھ جائے گی۔

قطری وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ اگر صرف پچھلے دو سالوں کی صورتِ حال کو حل کیا گیا تو یہ کافی نہیں ہوگا، بلکہ دونوں قوموں کے لیے انصاف کی بنیاد پر ایک پائیدار حل ضروری ہے۔

مصر کی وزارتِ خارجہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس فورم کے دوران مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے قطری وزیرِاعظم سے ملاقات کی، جس میں غزہ کی زمینی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں رہنماؤں نے شرم الشیخ امن معاہدے کے نفاذ کے لیے کوششیں جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

مصر نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کے لیے پانچ ہزار پولیس اہلکاروں کی تربیت کرے گا اور وہ ان ممالک میں شامل ہے جو استحکام فورس میں اپنے دستے بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔
 
 

ٹیگز: