Get Alerts

بلوچستان کی فکر کر بھائی

بلوچستان کی فکر کر بھائی

جن لوگوں کو مشرقی پاکستان کے آخری مہینے اور ایام یاد ہیں یا ہمارے ماضی قریب کا ریکارڈ ان کے سامنے ہے وہ تصدیق کریں گے کہ متحدہ پاکستان جیسے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے میں بغاوت کی جو صورت حال تھی اور خانہ جنگی جس عروج کو پہنچ رہی تھی، وقت کی جرنیلی حکومت ان سنگین واقعات کو مغربی پاکستان کے عوام سے چھپا کر رکھنے کی ہرممکن کوشش کر رہی تھی… پھر جب ایک دم غبارہ پھٹا تو اہلِ مغربی پاکستان کو اتنے بڑے صدمے کی کیفیت سے دوچار ہونا پڑا جس کی وہ توقع نہیں کر سکتے تھے… آج بقیہ پاکستان کے اندر جو کچھ رقبے کے لحاظ سے ہمارے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے اندر ہو رہا ہے اس کی یقینا مشرقی پاکستان کے ساتھ مماثلت پیش نہیں کی جا سکتی نہ وہ اس نوعیت کی بغاوت ہے نہ اتنی بڑی خانہ جنگی کا سامنا ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جس دہشت گردی کو اس صوبے میں بھی مسلسل عروج مل رہا ہے… وہ قابو میں نہیں آ رہی… پنجگور اور نوشکی جیسے مقامات پر اس کا چہرہ اس بھیانک صورت میں سامنے آیا ہے اس کے صوبے کے بقیہ مقامات تک پھیل جانے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے… پنجگور میں مسلسل لڑائی جاری ہے… شدت بھی اختیار کرتی جا رہی ہے لیکن راولپنڈی اور اسلام آباد کے حکمرانوں کی جانب سے مشرقی پاکستان کے آخری دنوں کی مانند یہاں بھی خبروں کو نہایت چھان پھٹک کر اپنی مرضی کی کانٹ چھانٹ کے بعد چھپنے کی اجازت دی جا رہی ہے … صوبے کے باہر کے پورے پاکستان کے عوام کو اصل حقائق سے بے خبر رکھنے کی ہرممکن کوشش معلوم نہیں کس مصلحت کے ساتھ جاری ہے… کیا یہ وہی رجحان فکر یا مائنڈ سیٹ ہے جو 16 دسمبر 1971 سے پہلے ہمارے فوجی حکمرانوں کے دل و دماغ پر چھایا ہوا تھا… یہ درست ہے بلوچستان میں ہونے والے تازہ ترین واقعات کے پیچھے سی پیک جیسے عظیم منصوبے کے دشمن چھائے ہوئے ہیں اور غالباً وزیراعظم عمران خان اس سے متعلقہ معاملات پر چین کی حکومت کو اعتماد میں لینے کے لئے چار روزہ دورے پر وہاں پہنچے ہوئے ہیں تاکہ اس عظیم ہمسایہ ملک کی مدد سے اس آگ کو ٹھنڈا کرنے اور سی پیک کو آگے بڑھانے کے لئے عملی تعاون کیا جائے مگر اس خانہ جنگی کے پیچھے دوسرے عوامل بھی ہیں… بھارت کا شرارت انگیز ذہن اور منصوبہ بندی ہے جبکہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان صلح کا بڑا ماحول پیدا ہو جانے کے باوجود عدم اعتماد کی سی کیفیت جاری ہے… ان سب باتوں نے مل کر بلوچستان کے اندر حالات کو غیرمستحکم کر کے رکھ دیا ہے لیکن کیا پاکستانی ریاست اور سلامتی کے اداروں کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے… پے در پے واقعات بتاتے ہیں ہمارے اصل حکمران جنہوں نے ملک کی سکیورٹی اور سیاسی امور دونوں اپنے ذمہ لے رکھے ہیں یقینا اس کا اعتراف نہیں کریں گے… لیکن ان کے ذہن اور سوچوں سے تو یہ بات منعکس ہوتی ہے کہ بلوچستان کو بھی مشرقی پاکستان کی مانند ایک کالونی سمجھ رکھا ہے… بلوچستان کے اندر آج تک حقیقی معنوں میں عوام کی منتخب کردہ کسی صوبائی حکومت کو چلنے نہیں دیا گیا جو دو ایک منتخب ہوئیں انہیں نہایت ڈھٹائی کے ساتھ عدم اعتماد کی تحریک چلا کر باہر نکالا گیا پھر مرضی کی انتظامیہ مقرر کر کے انہیں جمہوریت کا لباس پہنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا… دنیا کو بتانے کی کوشش کی گئی کہ یہ ہے عوام کی منتخب حکومت… کوئٹہ جا کر معلوم ہو جائے گا کہ یہ ہے وہ نام نہاد جمہوری انتظامیہ وہ ہی ہے جس 
کے اہم افراد کے بھائی بند گوریلا لیڈروں کے اندر اپنے کام دکھا رہے ہیں… جس صوبے کے اندر اتنا بڑا تضاد کارفرما ہو گا کیا وہاں کی انتظامیہ قیامِ امن میں مددگار بن سکتی ہے…
بلوچستان میں اسی پر اکتفا نہیں وہاں کی کسی بھی اہم شخصیت اور قومی اعتماد کے حامل ادارے کو راندہ درگاہ بنا کر رکھ دیا جاتا ہے… تازہ ترین مثال کے طور پر سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس فائز عیسیٰ قاضی کے ساتھ ہونے والا سلوک ہے ان کا تعلق محض بلوچستان سے ہی نہیں بلکہ اس صوبے کے نہایت محترم اور معزز خاندان سے ہے… ان کے والد نے تحریک پاکستان کے دوران بڑھ چڑھ کر قائداعظمؒ کا ساتھ دیا تھا… جن لوگوں کی مساعی کی وجہ سے بلوچستان پاکستان کا حصہ بنا ان میں وہ بھی شامل تھے لیکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیونکہ نہایت جرأت مند اور بے باک جج ثابت ہوئے ہیں اس لئے اسٹیبلشمنٹ کے عتاب کا نشانہ بنے ہوئے … ان کے خلاف امانت و دیانت کے لحاظ سے اس قدر تحقیقات کی گئیں کہ کوئی پہلو خفیہ نہیں رہا وہاں سے کچھ نہ ملا تو ان کی اہلیہ سرینا فائز عیسیٰ کو نشانے پر باندھ لیا گیا مگر ان کے حق میں سپریم کورٹ کا اکثریتی فیصلہ بھی آ گیا ہے جس میں جسٹس قاضی کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا… مگر ایک طرف سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے کو للکارا جا رہا ہے… دوسری طرف سوشل میڈیا پر اس خاندان کے خلاف طوفان بدتمیزی جاری ہے… اب بھی یہ کوششیں کی جا رہی ہیں کہ جسٹس عیسیٰ جناب عطا محمد بندیال کے بعد چیف جسٹس نہ بن پائیں… کیا یہ سب حقائق بلوچستان کے لوگوں سے مخفی ہیں… ایسی صورت حال میں جب بیرونی قوتیں وہاں شورش برپا کرنے کی کوشش کریں گی تو کیا مقامی لوگوں کی آرا اور ان کے خیالات ان کے حق میں نہ ہوں گے… یوں باغیانہ سرگرمیاں دوآتشہ نہ بنیں مگر ان باتوں کی ہمارے حکمرانوں کو پروا نہیں… بلوچستان یقینا پاکستان کا حصہ رہے گا لیکن اگر خانہ جنگیاں اسی طرح بھڑکتی رہیں اور قابو میں نہ آئیں تو سخت قسم کا داخلی عدم اتحادپورے ملک پر اثرانداز ہو سکتا ہے… اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے چائنہ سے آپ ضرور مدد لیجئے کیونکہ سی پیک کی تعمیر اس کے لئے غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے… وہ اپنا تعاون بھی فراہم کرے گا مگر آپ کی جانب سے مقامی طور پر حالات کو ٹھیک کرنے کی ذمہ داری زیادہ عائد ہوتی ہے  جو کہ بلوچستان کے دوعلاقوں نوشکی اور پنجگور میں ہماری سکیورٹی فورسز کی گرفت سے باہر ہوئے جا رہے ہیں…
بلوچستان کے اندر شورش میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے بھارت اس قدر دیدہ دہنی سے کام لے رہا ہے کہ آج سے کوئی تین سال قبل اپنے یوم آزادی پر تقریر کرتے ہوئے دہلی کے لال قلعے پر کھڑے ہو کر نریندر مودی نے برملا کہا وہ کشمیر کا بدلہ بلوچستان سے لے کر دکھائے گا… یوں اس نے اپنے قابل مذمت عزائم کسی سے چھپا کر نہ رکھے… اس کے بعد مودی نے اپنی ننگی فوجی طاقت، عیارانہ ڈپلومیسی اور پاکستان کی حکومت کی کمزوری سے اس طرح فائدہ اٹھایا کہ 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کو تو اپنے اندر جذب کر لینے کے جارحانہ اقدامات کئے… وادی کشمیر میں آزادی کی ہر تحریک کو کچل ڈالا… وہاں پر کوئی ایک آزادی پسند شہید ہوتا تھا اس کا نام پاکستان کے ساتھ جڑ دیتا تھا… یوں ہماری ریاست کی خوب خوب مذمت کی اور اس کے ساتھ بلوچستان کی آگ میں اپنا ایندھن بھی ڈالتا رہا اور اس وقت تک یہ کام جاری ہے ہمارا کام محض چند الفاظ کی شدت کے ساتھ بھارت کی مذمت کرنا رہ گیا ہے عملاً کوئی اقدام کرنا نہیں رہ گیا… ان حالات میں کل یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا… وزیراعظم صاحب تو چین میں ہیں بقیہ ریاست اور حکومت کے سب سرکردہ لوگ مظفرآباد پہنچے ہوئے تھے… کشمیر کو آزاد کرائے بغیر دم نہ لینے کے جذبوں کا اظہار کر رہے تھے لیکن جیسا کہ سب کو معلوم ہے ہم 5 اگست 2019 سے لے کر اب تک بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینا تو دور کی بات ہے کسی ایک عالمی ادارے مثلاً سلامتی کونسل یہاں تک کہ اسلامی کانفرنس کے کسی اجلاس سے بھی بھارت کی مذمت میں قرارداد منظور نہیں کرا سکے… کیا ہمارے حکمرانوں کا کام کشمیر کے حوالے سے زبانی دھمکیاں دینا رہ گیا ہے؟ اسی میں دشمن کو موقع مل رہا ہے وہ بلوچستان کے حوالے سے اپنا کھیل کھیلتا جائے… آخر ہم ملک کو کدھر لے جا رہے ہیں… حیرت کی بات ہے حزب اختلاف کی جماعتیں بھی بلوچستان کے بحران اور اس کی سنگینی پر اس قدر توجہ نہیں دے رہیں جس کی پاکستان کی سلامتی فوراً متقاضی ہے… کل لاہور میں میاں نوازشریف کی ہدایت اور شہباز شریف کی دعوت پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ تر قیادتیں سر جوڑ کر بیٹھیں تو انہیں فکر اس بات کی لاحق تھی عمران حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے یا نہ اس پر بھی حتمی فیصلہ تو کوئی نہیں ہوا لیکن بلوچستان کے حالات پر ایک دو چلتے ہوئے فقرے کہہ کر جانیں چھڑا لی گئیں… آپ عمران حکومت کو گرانے کی کوششیں ضرور کیجئے یہ اسی قابل ہے لیکن پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے کے مستقبل کی بھی فکر کیجئے اگر اس کے بقیہ ملک کے ساتھ اتحاد میں کوئی دراڑ پڑ گئی تو انجامِ گلستاں کیا ہو گا…

ٹیگز: