کارواں گم کردہ منزل

کارواں گم کردہ منزل

کیا عجب افراتفری بپا ہے۔ اپنا ہی ملک فتح کرنے کو شرق تا غرب مارچ ہو رہے ہیں۔ اب یہ پاکستان سے بڑھ کر دھرنستان بن گیا ہے۔ جس کے موجد اعلیٰ عمران خان اور ان کے ایمپائر تھے جن کی انگلی کے اشارے پر سیاست ناچتی رہی۔ سبھی کچھ روا ٹھہرا۔ بلاول اپنا میلہ لے کر اسلام آباد کی کرسی الٹنے چلے ہیں۔ پی ٹی آئی، گھوٹکی سے کراچی جانے کو ہے کیونکہ اسد عمر کہتے ہیں کہ سندھ 14 سال سے ڈاکو چلا رہے ہیں۔ آپس کی دھینگا مشتی میں یہ ایک دوسرے کے راز فاش کردیتے ہیں۔ سبھی ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں جو باریاں لگاکر عوام کی چٹنی بناکر چٹخارے لیتے ہیں۔ ایک ’خوشخبری‘ روزانہ ہی کی بنیاد پر چلتی ہے کہ آج پٹرول کی قیمت اتنی اور بڑھا دی گئی۔ نتیجہ یہ ہے کہہ آپ جب کھانے بیٹھتے ہیں تو ایک، مان نہ مان میں تیرا مہمان حصہ بٹورنے ہر دسترخوان پر (گرتی معیشت کا) بھبھوت ملے آ بیٹھتا ہے۔ یہ ایف بی آر اور اس کے پیچھے دانت نکوستا ہیولا ہے آئی ایم ایف کا۔ اشیائے خوردنی پر ٹیکس کی صورت، روٹی ڈبل روٹی ہر شے سے یہ ہمارے نوالے (20،30روپے اضافی) چھین رہے ہیں۔ لوٹ مار کا یہ بے رحمانہ نظام معاشی سطح پر یہ گل کھلا رہا ہے اور سیاسی سطح پرجمہوری بھوت ہمارا منہ چڑا رہا ہے: 
دیو ِاستبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
 تو جسے سمجھا ہے آزادی کی ہے نیلم پری!
عمران خان بوکھلائے بیانات دیتے رہتے ہیں۔ ’ریاست مدینہ‘، صادق امین اصطلاحوں پر ہمیں شرمسار کرتے رہے۔ اب اسی کے ساتھ یہ بھی جوڑ رہے ہیں کہ ’چینی ماڈل معاشی خوشحالی اور غربت ختم کرنے کو اپنایا جائے۔‘ اگرچہ پی ٹی آئی کا چینی ماڈل (جہانگیرترین والا)، آٹا ماڈل، کھاد ماڈل، بجلی گیس پیٹرول ماڈل ہم بھگت رہے ہیں مزید ’چینی‘ کیا کریںگے! ریاست مدینہ والی خوشحالی تو وہ تھی کہ زکوٰۃ دینے نکلیں تو زکوٰۃ لینے والا نہ ملے۔ جبکہ جعلسازیوں کے ہاتھوں ہمیں صرف نعرے ملے، بڑھکیں لگیں، دھواں دھار تقریریں، قوم کا پیسہ سستی شہرت کے اشتہاروں کے لیے اندھے کی ریوڑیاں بن کر بٹا۔ نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات۔ جو ہم نے سنا تھا وہ آج سچ ہوگیا: اگلے دن کچھ ایسے ہوںگے، چھلکے پھلوں سے مہنگے ہوںگے، ننھی ننھی چیونٹیوں کے بھی، ہاتھی جیسے سائے ہوںگے، لوگ اسے بھگوان کہیںگے، جس کی جیب میں پیسے ہوںگے!
سیاست چونکہ کروڑوں کا کھیل ہے سو اس وقت یہ سارے بھگوان ہی پٹھو گرم کھیل رہے ہیں۔ نوجوان قوم کا سرمایہ، ملک کے سہانے مستقبل اور ترقی کی نوید ہوا کرتے ہیں۔ تحریک پاکستان میں جنہوںنے ہراول دستے کا کام کیا۔ وہ کہاں ہیں؟ دو سال سے کورونا لہروں میں ڈوبتے ابھرتے تعلیم آن لائن میں خراٹے لیتے رہے۔ اب پھر تعلیمی ادارے بند اور پی ایس ایل کھلا۔ کرکٹ کی آڑ میں فحش ناچ گانے، جوا، منشیات وغیرہ وغیرہ رواں دواں ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ بڑے اہتمام اور منصوبہ بندی سے ملک کو کھوکھلا کیا جارہا ہے۔
اب ذرا دنیا کے نقشے پر نگاہ ڈالیں تو آئے روز کوئی نہ کوئی مسلم خطہ سامنے آتا ہے جہاں مسلم دشمنی کا دوردورہ ہے۔ اب باری ہے یوکرائن کی جہاں 20 لاکھ مسلم آبادی خطرات میں گھری ہے۔ روسی جنگی تیاری کے بیش نظر 75 ہزار یہودیوں کو یہاں سے نکال لے جانے کے انتظام ہو رہے ہیں، مسلمانوں کا والی وارث کوئی نہیں۔ یہ یہودی کہاں آباد ہوںگے؟ مزید فلسطینی اجاڑ کر پناہ گزین کیمپوں میں پھینکے جائیںگے اور یوں یوکرائن کی جنگ میں مسلمان دونوں جگہ ہی پسیںگے! 59 مسلمان ممالک میں ان کے سر پر ہاتھ رکھنے والا کوئی نہیں۔ امیر مسلم ممالک کہاں ہیں؟ سلطان برونائی جو دولت کی ریل پیل میں ضرب المثل ہیں ان کی بیٹی کی شادی ہو رہی ہے۔ ہم تو اپنے ہاں پے درپے بڑے بڑوں کی اولادوں کی مبذرانہ مسرفانہ شادیوں پر ملول رہے، یہاں (حسب دولت) ہیرے جواہرات بھرے تاجوں کی نمائش کچھ کم نہیں۔ یہ ان پڑھ جوڑے نہیں کہ مال کا مصرف نہ جانتے ہوں، برطانیہ، کینیڈا سے پڑھ لکھ کر بھی فکر وتدبر سے عاری ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ دینی تعلیمات، خداخوفی کا تو تذکرہ ہی کیا۔ ادھر جابجا عزت جان مال جائیداد کے عدم تحفظ کا شکارمسلمان، امت کو تلاش کرتے ہیں تو دبئی کی سونے کی ریل پیل کی داستان اور اس قوم کی عیش وعشرت کی ہوش ربا وڈیوز اللہ کے قہر سے خوفزدہ کیے دیتی ہیں۔ سونے سے بنے آئی فون، گاڑیاں سونے میں ڈوبی ہوئی جو 2.5 ارب ڈالر یا اس سے زیادہ مالیت کی۔ ٹھوس سونے سے بنی فلش سیٹ (کموڈ)۔ اے ٹی ایم جہاں نوٹوں کی جگہ سونے کے سکے، گولڈ بار نکلتے ہیں۔ تعیشات اور پیسہ لٹانے کا ایک بہانہ ملین ڈالر کی گاڑی کی نمبر پلیٹ بولی میں لینا ہے جو بعض اوقات خود گاڑی سے زیادہ قیمتی بھی ہوجاتی ہے۔ ایک ارب پتی اماراتی نے 18 ملین ڈالر اس نمبر پلیٹ پر لٹائے۔ ہوٹل جہاں ایک رات 24 ہزار ڈالر میں پڑتی ہے۔ زیورات میں سونا ہیرے سے لت پت عین اسی طرح جیسے شامی عورت خیمے میں برف اور کیچڑ میں لت پت مسلم اخوت کو پکارتی ہے! اسی پر بس نہیں 1200 ڈالر کا کپ کیک جس میں کھانے کے قابل 23 کیرٹ گولڈ کے چھڑکاؤ اور سونے میں ڈوبی سڑابیری ہمراہ ہے۔ ان کی آنکھوں پر چربی نہیں سونا چڑھ گیا ہے۔ پیلے مذہبی رنگ والے ہندو راس آتے ہیں یا یہودی۔ ان سے خوب گاڑھی چھنتی ہے۔
کارواں گم کردہ منزل راستے پُرپیچ وخم
 راہروانِ خستہ پا کی رہنمائی جرم ہے! 
اباحیت کا دور دورہ ہے کل عالم اسلام پر۔ہموم وغموم کے ان ادھ موا کردینے والے ملکی اور ملت کے احوال میں کہیں مشک ازفر کی سی مہک ایک رخ سے آتی ہے اور حریت کی خوشبو سے ڈوبتی سانسیں بحال کردیتی ہے۔ مسلم تاریخ کا یہ باب ہمیں بھولا تو نہیں کہ کس طرح نظامِ تعلیم گورے نے سر تا پا بدل کر تمام مسلم خطوں پر فکری ژولیدگی مسلط کی۔ برطانیہ، فرانس، اسپین، بلجیئم، ہالینڈ سبھی نے اپنے زیر تسلط مسلم ملکوں کی تاریخ اور ثقافت کو مسخ کر ڈالا۔ نوجوان اسلام اور دینی اقدار سے بے نیاز مادیت، الحاد، کمیونزم کا شکار ہوئے۔ جس پر اقبال نے کہا: اور یہ اہل کلیسا کا نظامِ تعلیم، ایک سازش ہے فقط دین ومروت کے خلاف۔ ایک صدی بعد آج یہ المیہ شدید ترین ہے۔ اسلام کا تمام شعائر، علامات کو مسخ کرنے، تحقیر کرنے اور گورے نے اپنے گماشتوں کے ذریعے انہیں مسلط کرنے میں کوئی کمی نہ چھوڑی۔ طربوش، سرخ ترکی ٹوپی: برصغیر میں اسلامی معاشرے کا شعار تھی (خلافت کی علامت) مصر میں وقار واقتدار کا نشان تھی۔ یہ ٹوپی بعدازاں ترکی میں بالخصوص ریسٹورانٹوں، ہوٹلوں کے بیروں خانساموں کے سروں پر رکھی گئی۔ 
ہوگئی رسوا زمانے میں کلاہِ لالہ رنگ
تھے سراپا ناز جو، ہیں آج مجبور نیاز! 
سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع میں پہنے جانے والا عمامہ/ پگڑی بیروں، چپڑاسیوں کو پہنائی گئی۔ شیروانی ریلوے کے قلیوں کو پہنائی گئی۔ خلیفہ، حجام کو کہا جانے لگا۔ ’مولوی‘ لفظ میں تحقیر بھر کر ’ان پڑھ مولوی‘ کہا جانے لگا۔ یہ تذلیل اذیت دہ تھی۔ تاہم شاعرِ امید نے جو کہا ہے اب سچ ہونے کو ہے: دیکھ کر رنگ ِچمن ہو نہ پریشاں مالی، کوکبِ غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی، خس وخاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالی، گل برانداز ہے خونِ شہداء کی لالی… اب بدلتے منظر میں نکلتے سورج کی افق تابی دیکھیے: افغانستان میں لاالہ سے دمکتا جھنڈا، اس کے پرجلال سائے تلے عمامے کی مبارک سنت سے مزین، حریت اور لازوال آزادی کی پرشکوہ علامت امارت اسلامی کے وزراء شرعی حلیوں میں مسندِ اقتدار پر دفتر آرا بیٹھے ہیں۔ پیچھے کھڑے چوبدار… چپڑاسی کالا مغربی سوٹ اور ٹائی زیب تن کیے تاریخ کے تازہ جبر کا ایک اظہار ہے! ایسی ہی ایک تصویر میں افغانستان میں پاکستانی وفد کے ظہرانے میں پیچھے کھڑے بیروں کا یہی لباس ہم سے بھی سوال پوچھ رہا ہے! ادھر امریکا افغانستان سے نکل کر روس سے یوکرائن پر سینگ اڑائے بیٹھا ہے۔ موسمیاتی تھپیڑوں کی غیرمعمولی شدت بھی خوفناک ہے۔ 7 کروڑ امریکی اب اس کی زد میں ہیں۔ یکے بعد دیگرے برفانی طوفان جو دھماکہ خیز قوت کا حامل ہے، اسے ’بم سائیکلون‘ کا نام دیا گیا ہے۔ نظام زندگی، جہازوں کی پروازیں معطل، بجلی کا تعطل، گرتے درخت، برف میں دھنسی گاڑیاں سامان ِآزمائش ہے۔ افغانستان پر برسائے ظلم وقہر کے ہولناک بموں کے بعد امریکا تسلسل سے موسمیاتی بموں کی زد میں معیشت پر مزید چرکے سہہ رہا ہے۔ کورونا کی لہروں کے اتار چڑھاؤ بھی جاری رہتے ہیں! یہ مکافاتِ عمل کا کوڑا برس رہا ہے۔ ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی۔ ایک بھاری قرض ان کے ذمے ہے جو ادا کردیں تو شاید خلاصی پائیں۔ افغانستان کی درجن ڈیڑھ درجن باغی افغان عورت کی نسبت اب سینکڑوں عفت مآب افغان باپردہ خواتین نے امریکی سفارت خانے کے باہر اپنے 10 ارب ڈالر واپس مانگے ہیں۔ یہ بھی کہا کہ مغرب افغانستان کے سبھی اثاثے بحال کرے اور اسلامی امارت تسلیم کرے۔ مغربیوں کو عورت سڑکوں پر نظر نہ آنے پر غشی کے دورے پڑنے لگ گئے تھے۔ امید ہے امریکا کو اب افغان عورت کی آزادی اور حقوق کا یقین آ جائے گا!

مصنف کے بارے میں