اسلام آباد : وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں جمعہ کی نماز کے دوران خودکش دھماکے کے نتیجے میں 31افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس کی آواز دور دراز علاقوں تک سنائی دی اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
پولیس کے مطابق، خودکش حملہ آور امام بارگاہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے اُسے روکا تو حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اُڑا لیا۔ دھماکے کے فوری بعد پولیس، ریسکیو اہلکار اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ موقع پر پہنچ گیا، جبکہ ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے دھماکے میں 31 افراد کی شہادت اور 160 سے زائد زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ زخمیوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، جس کے باعث اسلام آباد کے مختلف ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ پمز ہسپتال میں 60 زخمی لائے گئے ہیں، پولی کلینک میں 13، فیڈرل جنرل ہسپتال میں 27 اور بے نظیر اسپتال میں بھی زخمیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ زخمیوں کی تعداد بڑھنے کے باعث پمز ہسپتال میں گنجائش ختم ہو چکی ہے، جس کے بعد زخمیوں کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے دیگر ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکہ جمعے کی نماز کے دوران دوسری رکعت کے سجدے کے دوران ہوا، جب نمازی سجدے میں تھے۔ حملہ آور نے پہلے فائرنگ کی، جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ پھر حملہ آور نے مرکزی دروازے پر خود کو دھماکے سے اُڑا لیا۔
اس حوالے سے آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ اس دھماکے میں ان کے کزن کا بیٹا بھی شہید ہوگیا جو امام بارگاہ کی 3 منزلہ عمارت میں نماز پڑھنے آیا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ترلائی امام بارگاہ میں ہونے والے اس افسوسناک دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور شہادتوں پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی اور واقعے کی تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں شرپسندی اور بے امنی پھیلانے والوں کو کسی صورت نہیں بخشا جائے گا، اور ان کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔
وزیراعظم نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی اور واقعے کی تحقیقات میں تیزی لانے کی ہدایت کی۔ وزیرِ اعظم نے وزیر صحت کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔