گلگت : گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے کئی ہفتوں سے جاری طوفانی انتخابی مہم کا وقت باضابطہ طور پر ختم ہو گیا ہے، جس کے بعد اب کل (اتوار کو) خطے بھر میں پولنگ کا آغاز ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپرز سمیت تمام انتخابی سامان کی ترسیل مکمل کر لی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق، گلگت بلتستان کے 10 اضلاع کے 24 حلقوں میں مجموعی طور پر 400 امیدوار آمنے سامنے ہیں، جن میں اپنی نوعیت کی منفرد پیش رفت کے طور پر 8 خواتین امیدوار بھی جنرل نشستوں پر مردوں کے مدمقابل الیکشن لڑ رہی ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی 23 امیدواروں کے ساتھ سب سے بڑے سیاسی دھڑے کے طور پر سامنے آئی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) 19 امیدواروں کے ساتھ دوسرے نمبر پر مضبوط ترین پوزیشن میں ہے۔ اسلامی تحریک پاکستان 10 امیدواروں کے ساتھ میدان میں موجود ہے۔ جمیعت علمائے اسلام (ف) اور استحکامِ پاکستان پارٹی (IPP)دونوں جماعتوں کے 9، 9 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ انتخابی مہم کا وقت ختم ہونے کے بعد اب کسی بھی جماعت کو جلسے، جلوس یا لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔ امن و امان قائم رکھنے کے لیے فوج، رینجرز اور پولیس کے دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔ حساس پولنگ اسٹیشنز پر سخت نگرانی کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عوام پرامن ماحول میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں۔