اسلام آباد : بھارت کی جانب سے 24 گھنٹے تک دریائے چناب کا پانی بند رکھنے کے بعد اچانک بڑی مقدار میں پانی چھوڑ دیا گیا، جس کے باعث ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریا کی سطح میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں نظر آیا ہے۔
محکمہ آبپاشی کے مطابق چند گھنٹے قبل جو دریا خشک دکھائی دے رہا تھا، اب وہاں پانی کا بہاؤ 28 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی رفتار رہی تو رات کے وقت پانی کی سطح مزید بلند ہو سکتی ہے، جس سے نشیبی علاقوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر مقامی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کا اس طرح اچانک پانی روکنا اور پھر بغیر پیشگی اطلاع چھوڑ دینا نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ عمل پاکستان کے لیے ممکنہ سیلابی خطرات بھی پیدا کرتا ہے۔
ادھر انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے بھی دریائے چناب کی صورتِ حال پر گہری نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور پانی کی آمد و اخراج کا ڈیٹا مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
دوسری جانب بھارت کے اپنے زیرِ انتظام علاقے بھی اس صورت حال سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اکھنور کے علاقے میں بھارتی حکام نے الرٹ جاری کیا ہے کہ لوگ دریائے چناب کے کنارے سے دور رہیں اور قریبی علاقے خالی کر دیں، کیونکہ پانی کا بہاؤ کسی بھی وقت مزید بڑھ سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ ہی دن پہلے وہاں پانی اتنا کم ہو چکا تھا کہ مقامی لوگ دریا کو پیدل عبور کرتے نظر آ رہے تھے۔