امر تسر / نئی دہلی: بھارتی پنجاب کے اضلاع امرتسر اور جالندھر میں یکے بعد دیگرے ہونے والے مشتبہ دھماکوں کے بعد بھارتی سیاست میں شدید بھونچال آ گیا ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی (AAP) کے رہنما بھگونت مان نے ان دھماکوں کی آڑ میں سستی سیاست چمکانے کا الزام مسترد کرتے ہوئے براہِ راست وزیر اعظم نریندر مودی اور حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی (BJP) کو موردِ الزام ٹھہرا دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بی جے پی پر سنگین الزامات عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا یہ بھارتی جنتا پارٹی کا پرانا اور آزمودہ طریقہ واردات ہے۔ جس بھی ریاست یا علاقے میں انہیں الیکشن جیتنا ہو، وہاں پہلے دنگے فساد اور دھماکے کروائے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کو خوفزدہ کر کے اور آپس میں لڑوا کر سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
بھگونت مان نے واضح کیا کہ پنجاب میں حالیہ بدامنی کے پیچھے کسی خالصتانی تحریک کا ہاتھ نہیں بلکہ یہ بی جے پی کی سیاسی سازش ہے، جس کا مقصد پنجاب کے پرامن ماحول کو خراب کر کے وہاں اپنے قدم جمانا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پنجاب کی عوام اب بیدار ہو چکی ہے اور کسی کو بھی امن و امان کی صورتحال تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز پنجاب کے دو اہم شہروں میں سکیورٹی الرٹ پیدا کرنے والے واقعات پیش آئے۔ جالندھر دھماکہ ،بی ایس ایف چوک کے قریب ایک کھڑے اسکوٹر میں دھماکہ ہوا جس سے گاڑی سڑک پر جل کر خاکستر ہو گئی اور ایک شخص معمولی زخمی ہوا۔ پولیس اور فرانزک ٹیمیں اس کی نوعیت جانچنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہیں۔
امرتسر دھماکہ، کھاسا فوجی علاقے (کینٹ) کے قریب رات گئے ایک دھماکے کی آواز سنی گئی، جس کے بعد پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔
دوسری جانب، بی جے پی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کے اس بیان کی شدید مذمت کی ہے۔ مخالف رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بھگونت مان اپنی حکومت کی ناکامی اور ریاست میں امن و امان برقرار رکھنے میں کمزوری کو چھپانے کے لیے حساس قومی سلامتی کے معاملات پر سیاست کر رہے ہیں۔ تفتیشی ایجنسیوں کے مطابق وہ تمام ممکنہ پہلوؤں، بشمول دہشت گردی کے زاویوں سے معاملے کی جانچ کر رہی ہیں۔