Get Alerts

حماس، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کیلئے مذاکرات

حماس، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کیلئے مذاکرات

قاہرہ : فلسطینی تنظیم حماس، اسرائیل اور امریکا کے وفود آج مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ منصوبے پر بات چیت کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ یہ مذاکرات تقریباً دو سال سے جاری جنگ ختم کرنے اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ جلد از جلد جنگ ختم کرنے کے لیے پیش رفت کریں۔ حماس اور اسرائیل دونوں نے ٹرمپ کے روڈ میپ پر مثبت ردعمل دیا ہے، تاہم تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔

حماس کے ایک سینئر عہدے دار کا کہنا ہے کہ تنظیم جنگ بندی کے معاہدے اور قیدیوں کے فوری تبادلے کے لیے پُرعزم ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ چند دنوں میں قیدیوں کی رہائی ممکن ہو جائے گی۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں مذاکرات کو بہت مثبت قرار دیا اور کہا کہ یہ مرحلہ اسی ہفتے مکمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر اس سلسلے میں تعاون کر رہے ہیں۔

حماس کے مرکزی مذاکرات کار خلیل الحیہ گزشتہ رات مصر پہنچ چکے ہیں اور اسرائیلی وفد آج روانہ ہو گا۔ امریکا، مصر اور قطر کی کوششوں کے بعد متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ نے مذاکرات کو "حقیقی موقع" قرار دیا ہے تاکہ پائیدار جنگ بندی ممکن بنائی جا سکے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ غزہ پر بمباری بند کرے تاکہ قیدیوں کی رہائی ممکن ہو سکے۔ حماس کے قریب ایک ذریعے کے مطابق عسکریت پسند اپنی کارروائیاں روکنے کے لیے تیار ہیں اگر اسرائیل بھی اپنی کارروائیاں روک دے۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے بعد اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے حالات پیدا کیے جائیں گے۔ اس منصوبے میں زندہ اور مردہ قیدیوں کی حوالگی بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ حماس نے سات اکتوبر کے حملے میں 251 اسرائیلی یرغمالی بنائے تھے جن میں سے 47 اب بھی غزہ میں ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق 25 یرغمالی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اسرائیل سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ 250 فلسطینی قیدی اور غزہ میں گرفتار کیے گئے 1700 سے زائد قیدی رہا کرے گا۔

ٹیگز: