غزہ : اسرائیل کے چیف آف سٹاف ایال زامیر نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے حالات سازگار ہو گئے ہیں، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات میں نئی پیش رفت کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں، جہاں حماس غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے لچک دکھا رہی ہے۔ ایال زامیر نے اسرائیلی ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے حماس کے فوجی آپریشنز اور حکومتی صلاحیتوں کو نقصان پہنچا کر یرغمالیوں کی رہائی کے لیے راستہ ہموار کیا ہے۔ ان کے مطابق، اب معاہدے کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے حالات سازگار ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی 60 دن کی جنگ بندی اور آدھے مغویوں کی واپسی کے حوالے سے مثبت اشارے دیے ہیں، جبکہ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی ممکن ہے اور اگر عارضی جنگ بندی معاہدہ طے پاتا ہے، تو اس کے بعد مستقل جنگ بندی پر بات چیت کی جائے گی۔
دوسری طرف، حماس کے رہنما طاہر النونو نے کہا کہ دوحہ میں جاری مذاکرات میں بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم حماس اس بات پر زور دے رہی ہے کہ کسی بھی معاہدے کے نفاذ کے لیے واضح بین الاقوامی ضمانتیں ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس دباؤ ڈالنے کی طاقت ہے جو زمین پر حقیقی تبدیلی لا سکتی ہے۔ حماس کا موقف ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ تب تک موثر نہیں ہو سکتا جب تک اسرائیلی فوج اپنی سابقہ پوزیشنوں پر واپس نہیں جاتی۔
اس دوران، امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس دوحہ میں قریبی بات چیت کے دوران چار میں سے تین اہم مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس ہفتے کے آخر تک کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن ہو گا۔
غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے حوالے سے اختلافات ابھی تک برقرار ہیں، جہاں حماس چاہتی ہے کہ اسرائیلی فوج مارچ میں طے پانے والی جنگ بندی کے خاتمے سے قبل کی اپنی پوزیشنوں پر واپس چلی جائے، لیکن اسرائیل اس مطالبے کو مسترد کر رہا ہے۔
اس مذاکرات میں ایک اہم پیش رفت یہ بھی ہوئی ہے کہ اقوام متحدہ یا دیگر غیر جانبدار عالمی تنظیموں کو وہ علاقے فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جہاں سے اسرائیلی فوج انخلا کرے گی، تاکہ امداد وہاں پہنچائی جا سکے۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اس جنگ میں 57,000 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے، جس نے عالمی برادری کی توجہ مزید اس انسانی بحران کی طرف مبذول کرائی ہے۔