واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے جاری مذاکرات میں زبردست پیش رفت ہو رہی ہے اور بہت جلد امن معاہدہ متوقع ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ حماس نے مذاکرات میں کئی اہم نکات پر اتفاق کیا ہے اور تمام بڑے ممالک نے غزہ امن منصوبے کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم مشرق وسطیٰ میں 3 ہزار سال پرانا تنازع حل کرنے جا رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی امن کوششوں میں شامل ہیں اور اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ حماس ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کا احترام کرتی ہے، اور اردگان اس معاملے میں اپنا اثرو رسوخ استعمال کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو تنبیہ کی کہ وہ یرغمالیوں کے معاملے پر منفی رویہ نہ اپنائیں۔ ان کے مطابق اسرائیلی عوام بھی چاہتے ہیں کہ یرغمالیوں کی واپسی ہو اور تنازع ختم کیا جائے۔
اپنی گفتگو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی پالیسیوں کی بدولت کئی جنگیں روکی گئیں، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ بھی شامل ہے۔ ’’ہم نے تجارت اور ٹیرف کے ذریعے 7 جنگیں روکیں، اور پاک بھارت کشیدگی کے دوران 7 طیارے گرائے گئے تھے، ہم نے اس بحران کو بھی روکا،‘‘ ٹرمپ نے کہا۔
انہوں نے امریکی سیاست اور داخلی مسائل پر بات کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کو حکومتی شٹ ڈاؤن کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ ’’وہ غیرقانونی مقیم غیرملکیوں کو صحت کی سہولیات دینا چاہتے ہیں۔‘‘
ٹرمپ نے سابق صدر اوباما پر بھی تنقید کی کہ ان کی پالیسیوں اور سبسڈی اسکیموں نے معیشت کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی میں فوج کی تعیناتی کے بعد امن قائم ہوا، جب کہ شکاگو اب بھی بدامنی کا شکار ہے۔
آخر میں ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں اپنے حالیہ خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹیلی پرامپٹر خراب تھا اور ہال میں موجود لوگ ان کی آواز سن نہیں سکے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے بعد میں بتایا کہ ہیڈ فون میں بھی آواز نہیں آ رہی تھی۔