اسلام آباد :نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹ کے اجلاس میں خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان اس وقت بڑے پیمانے پر جنگ روکنے کے لیے ثالث کا بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان وہ پہلا اسلامی ملک تھا جس نے ایران پر حملے کی فوری اور دو ٹوک مذمت کی۔ انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ ایران پر حملے کے وقت وہ مدینہ منورہ میں موجود تھے جہاں سے انہوں نے فوری طور پر مذمت کی ہدایت جاری کی۔
حملے کے فوراً بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کیا گیا تاکہ کشیدگی کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔نائب وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ اس تمام عمل میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ ان کی مشترکہ کاوشوں سے فریقین کے درمیان اہم اجلاس، جو پہلے استنبول میں طے تھا، پاکستان کی کوششوں سے اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
پاکستان کی سفارتی مہارت کے نتیجے میں فریقین مذاکرات پر آمادہ ہوئے اور بعد ازاں چین بھی اس عمل کا حصہ بن گیا۔اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان کی کوششوں سے ابتدائی طور پر 6 روزہ مہلت حاصل ہوئی جسے بعد میں مزید 2 دن کے لیے بڑھایا گیا، تاہم گزشتہ روز صورتحال اچانک بگڑ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیل کے بڑے حملے کے جواب میں ایران نے سعودی عرب کے آئل ڈپو کو نشانہ بنایا، جس سے امن کی امیدوں کو دھچکا لگا۔
نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ اگرچہ حالات اس وقت انتہائی حساس ہیں اور تمام تفصیلات بیان نہیں کی جا سکتیں، لیکن پاکستان اب بھی حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے سرگرم ہے۔ انہوں نے قوم سے دعا کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔