لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کے ان 17 اضلاع جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت موجود نہیں وہاں عوام کے لیے مفت ٹرانسپورٹ سروس شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اس سلسلے میں وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں گوجرانوالہ، ملتان اور سیالکوٹ میں بطور پائلٹ پراجیکٹ مفت ٹرانسپورٹ سروس شروع کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔
اجلاس کے دوران حکام نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ٹرانسپورٹ کرایوں پر اثرات سے متعلق رپورٹ پیش کی۔ اس کے علاوہ پیاز، ٹماٹر، آلو، کیلا اور مختلف دالوں سمیت 23 اشیائے خورونوش کی موجودہ قیمتوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں آٹے کی قیمت دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں آٹا سندھ سے 427 روپے، خیبرپختونخوا سے 823 روپے اور بلوچستان سے 790 روپے کم قیمت پر دستیاب ہے۔ اسی طرح بیشتر دالوں، پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں بھی دیگر صوبوں کے مقابلے میں نسبتاً کم ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب پرائس کنٹرول اتھارٹی (پیرا) کو ہدایت کی کہ وہ صوبے بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں کو ریگولیٹ کرنے اور فی کلومیٹر ٹرانسپورٹ کرایوں کے تعین کے حوالے سے 24 گھنٹوں کے اندر رپورٹ پیش کرے۔
اجلاس میں مزید ہدایت کی گئی کہ شجرکاری مہم کو فروغ دیا جائے، کتے کے کاٹنے کے واقعات کی روک تھام کی جائے، زیبرا کراسنگ، اسٹریٹ لائٹس اور گرین بیلٹس کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جائے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے اوپن ڈرینج کے باعث ہونے والی اموات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کہیں غیر محفوظ جوہڑ یا کھلی نالیاں موجود ہوئیں تو اسے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کی غفلت تصور کیا جائے گا۔
اجلاس میں ہدایت دی گئی کہ صوبے میں جاری اپ گریڈیشن اور بیوٹیفکیشن کے تمام منصوبے جون تک مکمل کیے جائیں۔