لاہور : وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ آئین میں ترمیم کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے اور اس حوالے سے ہونے والی تنقید جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے لاپتہ افراد کے حساس معاملے پر نئی کمیٹی بنانے کا بھی اعلان کیا۔
وفاقی وزیر قانون نے اپنے خطاب میں کہا کہ آئینی ترامیم کا اختیار کسی اور ادارے کا نہیں بلکہ صرف پارلیمنٹ کا ہے۔ اگرچہ ان ترامیم پر مجھ پر کڑی تنقید کی گئی، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اختلافِ رائے لڑائی نہیں بلکہ ایک مہذب معاشرے کا حسن ہے۔ہمیں تنقید کو کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے کیونکہ اسی سے جمہوری اقدار مضبوط ہوتی ہیں۔
لاپتہ افراد کے دیرینہ مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں، دنیا کے دیگر ممالک کو بھی اس کا سامنا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے کمیشن پہلے ہی کام کر رہا ہے اور اب حکومت ایک اور کمیٹی تشکیل دینے جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ سیکیورٹی آپریشنز کے دوران مارے جانے والے دہشت گرد وہی ہوتے ہیں جن کے نام 'لاپتہ افراد' کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں۔
وزیر قانون نے سوشل میڈیا پر حکومتی گرفت کے حوالے سے کہا کہ حکومت نے سوشل میڈیا پر توہینِ مذہب پر مبنی مواد کی روک تھام کے لیے انتہائی مؤثر کام کیا ہے اور اس حوالے سے زیرو ٹولرنس کی پالیسی اپنائی گئی ہے تاکہ ملک میں مذہبی انتشار نہ پھیلے۔