بیروت: لبنان کے شمال، مشرق اور جنوب میں اسرائیلی فضائیہ نے تازہ فضائی حملے کیے ہیں، جن میں بعلبک کے مغرب میں بودای کے پہاڑی علاقے، شمالی لبنان کے ضلع عکار میں کفرملکی، اور جنوبی لبنان کے متعدد دیہات جیسے عین قانا، صربا اور حومین الفوقا کو نشانہ بنایا گیا۔
لبنانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان کے ضلع صیدا میں وادی الزراریہ اور ضلع صور کے نواحی علاقوں ارزی، برج رحال اور قاسمیہ کے درمیان واقع علاقوں پر بھی بمباری کی، جبکہ دریائے لیتانی کے کنارے پر ردی اور المطریہ کے درمیانی علاقے کو بھی حملوں میں شامل کیا گیا۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخای ادرعی نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں حزب اللہ کے عسکری مراکز، اسلحہ ذخیرہ کرنے، اسلحہ تیار کرنے کے بنیادی ڈھانچوں اور راکٹ فائر کرنے کی جگہوں کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئیں۔
یہ فضائی حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب لبنان اور اسرائیل کے درمیان نومبر میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، جو ایک سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے تنازع کے خاتمے کی کوشش تھی۔ تاہم اسرائیل نے اب تک پانچ اہم پہاڑی علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے، جہاں سے لبنان بارہا انخلا کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
دوسری جانب، حزب اللہ نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کے جنوبی لبنان سے مکمل انخلا تک وہ اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
امریکی سفیر برائے ترکی و شام کے لیے خصوصی ایلچی ٹوم براک آج بیروت پہنچنے والے ہیں، جنہوں نے سال کے آخر تک حزب اللہ کے اسلحہ کو غیر مسلح کرنے کی یقین دہانی طلب کی ہے۔
لبنانی وزیراعظم نے بھی حال ہی میں قطری ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کی دو ہزار سے زائد بار خلاف ورزیاں کی ہیں، جو خطے کی سلامتی کے لیے باعث تشویش ہے۔