اسلام آباد : پاکستان بھر میں عیدالاضحیٰ عقیدت، محبت اور دینی جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ فرزندانِ اسلام نے نمازِ عید ادا کی اور سنتِ ابراہیمیؑ پر عمل کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی شروع کر دی۔ قربانی کا یہ سلسلہ تین دن تک جاری رہے گا۔
کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں، دیہاتوں اور قصبوں میں نماز عید کے اجتماعات منعقد ہوئے۔ اس موقع پر علمائے کرام نے خطبوں میں حضرت ابراہیمؑ کی عظیم قربانی کی یاد تازہ کی اور اس کے پیغام پر روشنی ڈالی۔
نماز کے بعد ملک کی سلامتی، خوشحالی، امت مسلمہ کے اتحاد اور خاص طور پر فلسطین و کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے دعائیں کی گئیں۔
نماز کے فوراً بعد جانوروں کی قربانی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ لوگ اپنے اپنے علاقوں میں سنتِ ابراہیمیؑ پر عمل کرتے ہوئے گائے، بکرے، دُنبے اور اونٹ کی قربانی کر رہے ہیں۔ قصابوں کی مصروفیت بڑھ گئی ہے اور گلی محلوں میں قربانی کے مناظر عام ہیں۔
صدر اور وزیراعظم کی قوم کے نام مبارکباد
صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے قوم اور عالمِ اسلام کو عید کی مبارکباد دی ہے۔
صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ عیدالاضحیٰ ایثار، قربانی اور بھائی چارے کا درس دیتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور پاکستان کو ترقی یافتہ اور خوشحال ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عیدالاضحیٰ کا اصل پیغام صرف جانوروں کی قربانی نہیں بلکہ اپنی خواہشات، مفادات اور نفس کو اعلیٰ مقاصد کے لیے قربان کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر کے ملک کو آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے فلسطینی عوام کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے لیے دعا کی۔