اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں بھارتی جارحیت اور پاکستان کی جوابی کارروائی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے شرکت کی، اور پاک بھارت کشیدگی کے موجودہ حالات پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کے دوران بھارتی فوج کی جانب سے کی جانے والی بزدلانہ جارحیت پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس کے جواب میں پاک فوج کو مکمل جوابی کارروائی کا اختیار دے دیا گیا۔ اعلامیہ میں بھارتی اقدام کو پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ بھارت نے جھوٹے دہشت گرد کیمپس کے الزام میں معصوم شہریوں، خاص طور پر بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بھارت کی جارحیت عالمی قوانین کے تحت جنگی اقدامات کے زمرے میں آتی ہے۔ بھارت کی جانب سے سیالکوٹ، شکرگڑھ، مریدکے، کوٹلی، بہاولپور اور مظفرآباد میں بلااشتعال حملے کیے گئے، جن میں معصوم شہریوں کی شہادتیں ہوئیں اور کئی عمارتوں و مساجد کو نقصان پہنچا۔
مزید برآں اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے بھارتی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
اعلامیہ میں بھارتی اقدام کو پاکستان کی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت نے جھوٹے دہشتگرد کیمپس کے بہانے معصوم بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا۔
اس کے علاوہ اعلامیہ کمیٹی نے بھارت کی طرف سے بزدلانہ حملے سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جبکہ اجلاس میں بھارت کی بزدلانہ کارروائی پر بھی غور کیا گیا۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس اعلامیہ کے مطابق بھارتی افواج نے سیالکوٹ، شکر گڑھ، مریدکے، بہاولپور، کوٹلی اور مظفرآباد میں حملے کیے، بلااشتعال حملوں میں خیالی دہشتگردی کمیپوں کے بہانے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، حملوں میں معصوم مرد، خواتین اور بچے شہید، عمارتوں اور مساجد کو نقصان پہنچا ہے ۔
اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی نے بھارتی جارحیت پر قومی سلامتی کمیٹی نے پاک فوج کو ہر ضروری جوابی اقدام کی منظوری دیدی، بھارت کے اقدام بین الاقوامی قانون کے تحت واضح طور پر جنگی اقدامات کے زمرے میں آتے ہیں۔