نیویارک : اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ جب تک فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو ان کا حقِ خودارادیت نہیں دیا جاتا، دنیا میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ ان دیرینہ مسائل کے حل کے لیے فعال کردار ادا کرے۔
عاصم افتخار نے یہ بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی نوآبادیاتی نظام کے خاتمے سے متعلق کمیٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے عالمی برادری کی توجہ ان دونوں خطوں میں غیر ملکی تسلط اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی طرف مبذول کروائی۔
پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں جہاں بھی اقوام غیر ملکی قبضے کا سامنا کر رہی ہیں، انہیں آزادی اور خود ارادیت کا حق دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آج بھی کئی خطے ایسے ہیں جہاں نوآبادیاتی طرز کی تسلط قائم ہے، اور فلسطین و کشمیر اس کی واضح مثالیں ہیں۔
عاصم افتخار نے اسرائیل کی پالیسیوں اور بمباری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صرف گزشتہ دو سالوں میں 66,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیل نے نہ صرف انسانی حقوق کو پامال کیا بلکہ سکول، ہسپتال، رہائشی عمارتیں، صحافی اور امدادی کارکن بھی جان بوجھ کر نشانہ بنائے گئے۔
پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ایک خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہو جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
عاصم افتخار نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے جو اقدامات کیے وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جن کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز نہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ فوج زدہ علاقہ بن چکا ہے جہاں 9 لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں، اور ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، قید و بند، اور تشدد روز کا معمول بن چکے ہیں۔ کشمیری قیادت کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے اور کئی رہنما حراست کے دوران جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
پاکستانی مندوب نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کیے جا رہے ہیں اور کشمیریوں کی زمینوں پر قبضہ ہو رہا ہے، جو کہ ہندوتوا نظریے کے تحت ایک مسلم اکثریتی علاقے کو ہندو اکثریتی علاقہ بنانے کی کوشش ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر عاصم افتخار نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا انحصار مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ "امن کبھی بھی ناانصافی یا حقوق کی پامالی کی بنیاد پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اقوام متحدہ کو اپنی ہی قراردادوں پر عملدرآمد کروانا ہوگا اور مقبوضہ اقوام کو ان کا حق دلانا ہوگا۔"