نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ نے دنیا میں امن قائم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ عالمی ادارہ امن اور بات چیت کے فروغ کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
گوتریس نے خبردار کیا کہ استثنیٰ کی پالیسی کی مسلسل حمایت کی وجہ سے دنیا میں امن کے بنیادی ستون کمزور ہو رہے ہیں اور اگر ہم مؤثر کثیرالجہتی اداروں کو مضبوط نہیں کریں گے تو دنیا افراتفری کا شکار ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں دو راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا: یا تو افراتفری کی دنیا یا استحکام اور امن کی دنیا۔ عالمی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ امن ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے کیونکہ امن ہمارا پہلا عہد ہے، لیکن بدقسمتی سے جنگیں بے دردی سے پھیل رہی ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر یوکرین میں انسانیت کے خلاف جرائم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں جاری کشیدگی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے اور پائیدار جنگ بندی کی اشد ضرورت ہے۔
غزہ میں جاری حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ غزہ کے عوام پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے، فوری جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی ضروری ہے، ساتھ ہی انسانی امداد کی فوری فراہمی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غزہ میں قحط اور نسل کشی کے ذریعے انسانی بنیادوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ امن اور استحکام کے حصول کے لیے ہم دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
انہوں نے انسانی حقوق کے محافظوں اور صحافیوں کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بلا خوف و خطر اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کا موقع دیا جانا چاہیے۔