Get Alerts

ایران پر حملہ کرنا کیلئے تیاریاں تیزی سے جاری ہیں، اسرائیل آرمی چیف

ایران پر حملہ کرنا کیلئے تیاریاں تیزی سے جاری ہیں، اسرائیل آرمی چیف
کیپشن: ایران پر حملہ کرنا کیلئے تیاریاں تیزی سے جاری ہیں، اسرائیل آرمی چیف
سورس: فائل فوٹو

تل ابیب: اسرائیل آرمی چیف کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے کے لیے تیزی سے تیاریاں جاری ہیں۔ یہ انتہائی پیچیدہ کام ہے جس کے لیے خفیہ معلومات اور زیادہ سے زیادہ اسلحہ درکار ہے اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔

اسرائیلی چیف آف جنرل اسٹاف اویو کوہاوی نے ایک انٹریو میں کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے تیاریوں میں تیزی آ رہی ہے اور اسی مقصد کے لیے دفاعی بجٹ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے اور یہ انتہائی پیچیدہ کام ہے جس کے لیے خفیہ معلومات اور زیادہ سے زیادہ اسلحہ درکار ہے اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔

اسرائیلی فوجی سربراہ نے کہا کہ مشرقی وسطیٰ میں ہم ایران کے اتحادیوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں، ہمارا اصل مقصد خطے میں ایرانی اثرورسوخ کو کم کرنا ہے جب کہ اس طرح کے آپریشن پورے مشرقی وسطیٰ میں کیے جاتے ہیں جس میں حماس اور حزب اللہ بھی شامل ہیں۔

گزشتہ ماہ اسرائیل کے وزیر دفاع بینی گینٹز نے کہا تھا کہ ایران اور اس کی سیکیورٹی فورس حزب اللہ مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گئے ہیں جبکہ آئل ٹینکرز پر ایران کے حملے ناقابل برداشت ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے عالمی قوتوں سے مطالبہ کیا تھا کہ ایران اور حزب اللہ کو جارحیت سے روکا جائے۔ اسرائیل اکیلے بھی ان کو سبق سیکھا سکتا ہے لیکن ہم عالمی برادری سے کٹ کر کچھ نہیں کرنا چاہتے تاکہ دوست ممالک کو شکایت نہیں ہو۔ اگر عالمی قوتیں ایران کو نہیں روکیں گی تو اسرائیل تنہا ایران اور حزب اللہ کا مقابلہ کرے گا اور حزب اللہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے لبنان میں اہم اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے عالمی قوتوں کو مخاطب کرتے مزید کہا تھا کہ ایران جوہری منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہا ہے اس لیے اب غیر جانبدار رہنا ممکن نہیں رہا ہے۔ جلد ہی عالمی قوتوں کو کسی نتیجے پر پہنچنا ہوگا اور اس میں تاخیر سے خطے کے امن کو خطرہ درپیش ہے۔

اسرائیل اور امریکا نے ایران پر ایک آئل ٹینکر پر ڈرون حملے کا الزام عائد کیا تھا جس میں عملے کے دو ارکان ہلاک ہوگئے تھے جب کہ یہ آئل ٹینکر اسرائیلی بزنس مین کی ملکیت بتایا جاتا ہے تاہم ایران نے اس الزام کی تردید کی تھی۔