واشنگٹن: امریکی میڈیا کے تازہ رپورٹس کے مطابق، اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کی سخت وارننگ کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی کو روک دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی حکومت کا اجلاس اصل میں مغربی کنارے کے بڑے حصے پر اسرائیلی خودمختاری نافذ کرنے کے بارے میں تھا، لیکن متحدہ عرب امارات کی طرف سے وارننگ ملنے کے بعد اجلاس کے ایجنڈے کو تبدیل کر کے فلسطینی علاقوں میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر توجہ دی گئی۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل کے وزیر خزانہ نے حال ہی میں مغربی کنارے کے پانچ میں سے چار حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس بیان پر متحدہ عرب امارات نے سخت تنبیہ کی تھی کہ اگر یہ اقدام کیا گیا تو یہ ابراہیمی معاہدے کے لیے 'سرخ لکیر' ثابت ہو سکتا ہے اور ممکن ہے کہ امارات اس معاہدے سے علیحدہ ہو جائے۔