تہران / اسلام آباد : خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کی بحالی کی جانب ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے باضابطہ طور پر جنگ بندی معاہدے کی توثیق کر دی ہے، جس کے ساتھ ہی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو بھی فوری طور پر کھولنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس اہم موقع پر پاکستان کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک سفارتی کوششوں کے معترف ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی قیادت نے خطے کو بڑے بحران سے بچانے اور جنگ بندی کو ممکن بنانے کے لیے شب و روز محنت کی ہے۔
سپریم سکیورٹی کونسل کے اعلامیے کے مطابق، پاکستان نے اس پورے عمل میں ایک مؤثر پل کا کردار ادا کیا ہے۔ ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو ایک 10 نکاتی جامع تجویز ارسال کی ہے، جس کا مقصد پائیدار امن کا قیام اور باہمی تحفظات کا خاتمہ ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلنے سے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی برقرار رہے گی اور اس سے عالمی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کی جانب سے اس کامیاب ثالثی کو بین الاقوامی سطح پر ملک کے بڑھتے ہوئے سفارتی وقار کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔