استنبول : پاکستان نے عالمی سفارت کاری میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنے کے بعد اب بین الاقوامی تعلیمی افق پر بھی اپنی فکری برتری ثابت کر دی ہے۔ استنبول میں منعقدہ یوریشیا ہائر ایجوکیشن سمٹ میں پاکستانی وفد کی شرکت محض ایک حاضری نہیں بلکہ عالمی پالیسی سازی میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے کا ذریعہ بن گئی۔
سمٹ کا سب سے اہم اور یادگار لمحہ سپیریئر یونیورسٹی کی ریکٹر اور ممبر ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر سمیرا رحمان کا کلیدی خطاب تھا۔ انہوں نے "Leading with Character" کے عنوان سے سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں قیادت کا ایسا ماڈل پیش کیا کہ پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ ان کا کہنا تھاجامعات کا مقصد صرف ڈگریاں بانٹنا نہیں، بلکہ اخلاقی بنیادوں پر ایسے نوجوان تیار کرنا ہے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لائیں۔ پاکستان کے پاس دنیا کو سنانے کے لیے ایک متاثر کن کہانی (Compelling Story) موجود ہے۔
سمٹ کے دوران پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیمی تعاون کے نئے دروازے کھل گئے۔ ترکیہ کی کونسل آف ہائر ایجوکیشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ایرول اوزوار نے پاکستانی وفد کو ترکیہ کے 500 ریسرچ پروجیکٹس میں شمولیت کی دعوت دی۔ دونوں ممالک کے درمیان "یورپ ،ایشیا،عرب تعلیمی راہداری" کے قیام پر اتفاق کیا گیا، جو خطے میں علم کے فروغ کا سب سے بڑا منصوبہ ثابت ہوگا۔
چیئرمین ایپ سپ پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان کی قیادت میں پاکستانی وفد نے انتہائی کامیاب ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے ترک قیادت کو نومبر 2026 میں پاکستان میں ہونے والی ریکٹرز کانفرنس کی دعوت دی، جسے گرمجوشی سے قبول کیا گیا۔ عرب اور یوریشین یونیورسٹیز کے سربراہان نے بھی پاکستان کے فکری کردار کو سراہتے ہوئے مشترکہ منصوبوں پر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
سمٹ میں قائم پاکستانی پویلین پر بین الاقوامی وفود کا تانتا بندھا رہا۔ امریکہ، برازیل، رومانیہ، انڈونیشیا اور بلغاریہ سمیت متعدد ممالک کی جامعات نے پاکستانی یونیورسٹیوں کے ساتھ ریسرچ اور دوطرفہ تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سمٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان اب صرف علم حاصل کرنے والا نہیں بلکہ علم بانٹنے والا ملک بن چکا ہے۔ ڈاکٹر سمیرا رحمان اور ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان کی کوششوں نے ثابت کیا کہ پاکستان کی "سافٹ پاور" اب عالمی سطح پر پالیسی سازی اور فکری قیادت (Thought Leadership) میں اپنا کلیدی حصہ ڈال رہی ہے۔