کراچی : کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) نے برطانوی اخبار 'ڈیلی میل' کی انٹرنیشنل ٹریننگ فیلو شپ پروگرام سے متعلق رپورٹ کو سراسر گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ ادارے کے خزانچی اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن پروفیسر مسرور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ آزادانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ میں کسی بھی قسم کی مالی یا انتظامی بے ضابطگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
پروفیسر مسرور نے بتایا کہ اخبار کی رپورٹ کے بعد پروگرام کے آغاز سے اب تک کا مکمل آڈٹ کرایا گیا، جس کے نتائج درج ذیل ہیں۔ پروگرام کی 95 فیصد رقم براہِ راست طلبہ کو دی گئی، جبکہ صرف 5 فیصد رقم انتظامی اخراجات پر خرچ ہوئی جو برطانوی قانون کے عین مطابق ہے۔
سی پی ایس پی کسی بھی آئی ٹی ایف (ITF) اکاؤنٹ کا براہِ راست سگنیٹری نہیں تھا اور نہ ہی کوئی رقم ادارے کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوئی۔ برمنگھم کی عمارت کے کرائے، یوٹیلیٹی بلز اور دیگر لوکل اخراجات کی جانچ پڑتال میں تمام معاملات ایم او یو (MoU) کے تحت شفاف پائے گئے۔
پریس کانفرنس میں ادارے کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا کہ سی پی ایس پی 1962 سے پارلیمنٹ کے ایکٹ کے تحت قائم ملک کا سب سے معتبر پوسٹ گریجویٹ طبی ادارہ ہے۔ادارہ اس وقت 90 سے زائد فیلوشپ پروگرامز چلا رہا ہے اور اس کے مراکز نیپال، سعودی عرب، آئرلینڈ اور برطانیہ میں بھی فعال ہیں۔حال ہی میں 6 فروری 2026 کو منعقدہ 59ویں کانووکیشن میں 947 طبی ماہرین کو ڈگریاں تفویض کی گئیں۔
سی پی ایس پی کی فنانس، کونسل اور ٹرسٹ کمیٹیوں نے میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ پروفیسر مسرور کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی میڈیکل ایجوکیشن کانفرنس 2026 کے کامیاب انعقاد اور رائل کالجز کے صدور کی شرکت ادارے پر عالمی اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
سی پی ایس پی انتظامیہ نے عزم ظاہر کیا کہ ادارہ شفافیت، دیانت اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے اپنا سفر جاری رکھے گا اور ایسی بے بنیاد رپورٹس سے ادارے کی ساکھ متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔