لاس اینجلس: امریکہ میں غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی کارروائیاں تیز ہو گئیں۔ لاس اینجلس میں مسلسل دوسرے روز پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔
پولیس نے احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر مقامی حکام اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکتے تو وفاقی حکومت کو مداخلت کرنی ہوگی۔ اس بیان کے بعد وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ لاس اینجلس میں 2,000 نیشنل گارڈز تعینات کر دیے گئے ہیں۔
دوسری طرف، گورنر کیلیفورنیا نے اس اقدام کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست خود صورتحال پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
احتجاج میں شریک تقریباً 100 مظاہرین کووفاقی ایجنٹس کے ساتھ تنازع کا سامنا تھا،
ٹرمپ کے بارڈر امور کے مشیر ٹام ہو مین کاکہنا تھا کہ نیشنل گارڈز ہفتے کی شام لاس اینجلس پہنچ چکے ہیں۔
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے اس فیصلے کو جان بوجھ کر اشتعال انگیز قرار دیا، جبکہ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ اگر مقامی حکام اپنا کام نہیں کر پاتے تو وفاقی حکومت اس معاملے کوختم کرنے میں اپنا کردارادا کرے گی۔