Get Alerts

مشرقِ وسطیٰ کا بحران، ٹرمپ کا جارحانہ مزاج اور آزاد کشمیر کے سیاسی چیلنجز:سینئر اینکر فواد احمد کا ایک بے لاگ تجزیہ

مشرقِ وسطیٰ کا بحران، ٹرمپ کا جارحانہ مزاج اور آزاد کشمیر کے سیاسی چیلنجز:سینئر اینکر فواد احمد کا ایک بے لاگ تجزیہ

موجودہ عالمی اور علاقائی منظرنامہ تیزی سے بدلتی ہوئی جیو پولیٹکس اور اندرونی سلامتی کے چیلنجز کا ایک پیچیدہ امتزاج پیش کر رہا ہے۔ ایک طرف مشرق وسطیٰ جنگ کے دہانے پر ہے تو دوسری طرف پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد جموں و کشمیر میں سٹرکچرل اور امن و امان کے مسائل سر اٹھا رہے ہیں۔ سینیئر اینکر فواد احمد نے وی لاگ میں ان تمام پہلوؤں کا تفصیلی احاطہ درج ذیل ہے۔
سینئر اینکر فواد احمد کاکہنا ہےکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ براہِ راست میزائل اور فضائی حملوں نے خطے کو ایک وسیع تر جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو دی جانے والی یہ وارننگ کہ "ایران پر حملے کی صورت میں امریکہ ساتھ نہیں دے گا" اور اس کے فوراً بعد اسرائیل کی جانب سے حملوں کا آغاز، یہ ظاہر کرتا ہے کہ تل ابیب اب واشنگٹن کی تزویراتی حدود کو خاطر میں لانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ان کے نزدیک صدر ٹرمپ کی جانب سے 'ٹروتھ سوشل' پر ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کو "ان فل فورس اینڈ ایفیکٹ" برقرار رکھنے کا اعلان یہ ثابت کرتا ہے کہ امریکہ طاقت کے ذریعے تہران کو ایک بڑے عسکری و معاشی معاہدے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے وی لاگ میں یہ بتایا کہ  امریکی بحری دباؤ کے جواب میں یمن کی حوثی انتظامیہ کی جانب سے دنیا کی حساس ترین سمندری گزرگاہ "آبنائے باب المندب" کو بند کرنے کی دھمکی محض خام خیالی نہیں بلکہ عالمی معیشت پر ایک بڑا حملہ ہے۔ دنیا کے کل خام تیل کا قریباً 5 فیصد (تقریباً 40 لاکھ بیرل روزانہ) اسی تنگ راستے سے گزرتا ہے۔ اگر حوثی اس ناکہ بندی میں کامیاب ہوتے ہیں تو نہرِ سویز کا راستہ بند ہو جائے گا، جس سے ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت مفلوج ہو جائے گی ۔
 فواد احمد کے مطابق، حالات کے یکدم ٹھیک ہونے کی امید رکھنا خام خیالی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس جیسے دیگر معاشی ہتھیار اب بھی میز پر موجود ہیں۔ انہوں نے وی لاگ میں  بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی نشریاتی ادارے 'این بی سی نیوز' کی میزبان کرسٹن ویلکر کے ساتھ انٹرویو کے دوران غصے میں مائیک زمین پر پھینک کر واک آؤٹ کر جانا ان کی دیرینہ سیاسی جبلت کا عکاس ہے۔
 ایسے نازک وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ  جنگ کے دہانے پر ہے، امریکی صدر کا یہ غیر متوقع رویہ عالمی سطح پر امریکی سفارت کاری کی سنجیدگی کو متاثر کرتا ہے۔ دوست اور دشمن ممالک اب ٹرمپ کے اس مزاج کو سامنے رکھ کر ہی اپنی اگلی چالیں چل رہے ہیں۔
سینئر اینکر فواد احمد نے وی لاگ میں بین الاقوامی امور سے ہٹ کر، آزاد کشمیرکے بارے میں بات کی کہ آزاد کشمیر اس وقت ایک گہرے داخلی، آئینی اور سیاسی بحران کی زد میں ہے، جس پر فواد احمد نے دوٹوک کہا کہ  آزاد کشمیر اسمبلی کی کل 53 نشستوں میں سے پاکستان میں مقیم جموں و کشمیر کے مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستیں طویل عرصے سے سیاسی تنازع کا باعث بنی ہوئی ہیں۔
ان کے نزدیک نقادوں کا یہ استدلال وزن رکھتا ہے کہ ان 12 نشستوں پر عام طور پر وہی جماعت جیتتی ہے جو اسلام آباد (وفاق) میں حکومت کر رہی ہوتی ہے۔ اس طرح وفاقی حکومتیں ان نشستوں کو بیساکھی بنا کر مظفر آباد میں اپنی پسند کی حکومت قائم کر لیتی ہیں، جس سے آزاد کشمیر کا مقامی عوامی مینڈیٹ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔اس ڈھانچے کو بدلنا یا ان نشستوں کو ختم کرنا محض انتظامی فیصلہ نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے قانون ساز اسمبلی میں دو تہائی اکثریت اور تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت لازم ہے، کیونکہ یہ معاملہ انتہائی حساس سیاسی اور سفارتی اہمیت کا حامل ہے۔ان کے نزدیک آزاد کشمیر کی حالیہ بے امنی کے پیچھے ان عناصر کا ہاتھ ہے جو جمہوری اور پارلیمانی راستے سے ناکام ہو چکے ہیں۔
 وہ کالعدم تنظیمیں جنہیں ماضی میں عوام نے ووٹ کے ذریعے مسترد کر دیا، اب وہ سڑکوں پر جتھے لا کر امن و امان کو یرغمال بنانے اور عوام کی قسمت کا فیصلہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں پارلیمانی سیاست میں ناکام عناصر کو بندوق یا لاٹھی کے زور پر فیصلے مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس حوالے سے ریاست کا یہ فیصلہ انتہائی واضح اور دوٹوک ہے کہ اب گلی کوچوں کے یہ جتھے عوام کی قسمت کا فیصلہ نہیں کریں گے اور ریاستی رٹ کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔

ٹیگز: