واشنگٹن / اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے (IMF) کے ایگزیکٹو بورڈ کا اہم ترین اجلاس آج واشنگٹن میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں پاکستان کے لیے قرض پروگرام کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی۔ اس اجلاس میں پاکستان کی جانب سے کی گئی معاشی اصلاحات اور طے شدہ اہداف پر عملدرآمد کا حتمی جائزہ لیا جائے گا۔
حکام وزارتِ خزانہ کے مطابق، آج کے اجلاس میں پاکستان کے کیس کا مثبت جائزہ لیے جانے کے بعد 1.2 ارب ڈالر سے زائد کی رقم جاری کرنے کی منظوری دی جائے گی۔ یہ رقم درج ذیل پروگراموں کے تحت فراہم کی جائے گی۔ ای ایف ایف (EFF): توسیعی فنڈ سہولت کے تحت فنڈز کی فراہمی، آر ایس ایف (RSF): پائیداری اور لچکدار سہولت کے تحت معاونت،مجموعی طور پر پاکستان کو ان پروگراموں کے تحت 7 ارب ڈالر فراہم کیے جانے ہیں۔
وزارتِ خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 27 مارچ کو اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا تھا، جس کے بعد پاکستان نے تمام پیشگی شرائط کو کامیابی سے پورا کیا۔
کامیاب جائزہ: حکام کا کہنا ہے کہ تیسری جائزہ رپورٹ مکمل طور پر کامیاب رہی ہے۔پاکستان کو قوی امید ہے کہ آج بورڈ کی منظوری کے بعد 1 ارب ڈالر کی فوری منتقلی کے احکامات جاری کر دیے جائیں گے۔معاشی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے اس قسط کی منظوری سے پاکستان کے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا۔ روپے کی قدر میں استحکام اور عالمی مارکیٹ میں پاکستان کے معاشی ساکھ بہتر ہوگی۔ دیگر عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک سے فنڈز کے حصول میں آسانی پیدا ہوگی۔