Get Alerts

لبنان کو بھی جنگ بندی کا حصہ بنایا جائے: فرانس اور آسٹریلیا کا مشترکہ مطالبہ

لبنان کو بھی جنگ بندی کا حصہ بنایا جائے: فرانس اور آسٹریلیا کا مشترکہ مطالبہ

پیرس / کینبرا / انقرہ:مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے عالمی دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ فرانس اور آسٹریلیا نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی نئے جنگ بندی معاہدے کا دائرہ کار لبنان تک بڑھایا جائے، جبکہ ترکیہ نے اسرائیل پر امن عمل کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے اپنے حالیہ بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ جنگ بندی کے عمل میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ انسانی المیے کو روکا جا سکے۔ اسی موقف کی تائید کرتے ہوئے آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ خطے میں مکمل قیامِ امن تب ہی ممکن ہے جب جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ تشدد کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کو یکسو ہونا پڑے گا۔
دوسری جانب، ترک وزیر خارجہ نے اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ  اسرائیلی وزیراعظم بینجامن نیتن یاہو امن کی تمام تر کوششوں کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔ 
نیتن یاہو حکومت عالمی سطح پر امن و استحکام کے قیام کے لیے جاری سفارتی عمل کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہے۔یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات جاری ہیں اور پاکستان و سعودی عرب جیسے ممالک بھی لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ فرانس اور آسٹریلیا کی مداخلت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اب مغربی ممالک بھی لبنان کی صورتحال پر اسرائیل سے نالاں دکھائی دیتے ہیں۔

ٹیگز: