اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت گوادر میں پانی کی قلت اور بجلی کے مسائل پر اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزرا، متعلقہ حکام اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان نے گوادر کو درپیش آبی مسائل، درپیش چیلنجز اور جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں ڈی سیلینیشن پلانٹس بجلی کی بندش کے باعث بلاتعطل فعالیت برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ خضدار سے گوادر تک قومی گرڈ لائن ناقص منصوبہ بندی کے باعث وولٹیج میں تسلسل قائم نہیں رہتا، جس سے نہ صرف شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ صنعتی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان گوادر کے پانی کے دیرپا حل کے لیے جامع منصوبہ بندی کر رہی ہے اور نیشنل گرڈ لائن کا ازسرنو جائزہ لے کر ضروری اصلاحات پر کام جاری ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ ہنگامی بنیادوں پر پاور ہاؤس اور جنریٹرز کے ذریعے ڈی سیلینیشن پلانٹس کو چلانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کو پانی کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گوادر میں پانی اور بجلی کے مسائل کے دیرپا حل پر زور دیا اور متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایت کی۔ انہوں نے پاور ڈویژن، منصوبہ بندی کمیشن اور سیکرٹریز کو 15 اگست تک گوادر پہنچنے اور موقع پر حل کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
وزیراعظم نے تاکید کی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشاورت سے گوادر کو بلاتعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔