اسلام آباد: مشعل پاکستان نے پاکستان ریفارمز رپورٹ 2026 جاری کر دی ہے جس میں 2025 کے دوران کی جانے والی 660 اصلاحات اور حکومت کی اہم کامیابیوں کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر مصدق ملک نے اس رپورٹ کو ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کی ترقی، حکومتی شفافیت، اور ریاستی اداروں میں استحکام کی واضح علامت ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، 2025 کے دوران 135 سے زائد وفاقی اداروں میں 600 اصلاحاتی اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں مختلف شعبوں میں اہم اصلاحات شامل ہیں۔ ان اقدامات نے نہ صرف اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا بلکہ حکومتی نظام میں شفافیت اور احتساب کی ثقافت کو بھی فروغ دیا۔
پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی اور نیشنل ڈیجیٹل کمیشن کی تشکیل کے ذریعے حکومت نے ڈیجیٹل گورننس کے شعبے میں ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ اس کے علاوہ، الیکٹرانک جرائم ترمیمی ایکٹ 2025 کے ذریعے آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل احتساب کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے، جس سے عوام کی آن لائن سرگرمیاں زیادہ محفوظ ہوئی ہیں۔
پاکستان میں 20 ای۔روزگار مراکز قائم کیے گئے ہیں جس کا مقصد فری لانسنگ کو فروغ دینا اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا تھا۔ اس کے علاوہ، نیشنل آئی سی ٹی انٹرن شپ پروگرام کے تحت 1000 سے زائد گریجویٹس کو مختلف صنعتوں سے جوڑا گیا۔ ہواوے آئی سی ٹی پروگرام کے ذریعے ایک لاکھ نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی گئی۔
دفاعی پنشن کے نظام میں ڈائریکٹ کریڈٹ سسٹم متعارف کرایا گیا، جس سے 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد دفاعی پنشن ریکارڈز کو ڈیجیٹل نظام میں منتقل کیا گیا اور ادائیگیوں کی رفتار اور شفافیت میں بہتری آئی۔
توانائی کے شعبے میں اہم اصلاحات کی بدولت 1.4 کھرب روپے سے زائد کی طویل مدتی بچت ممکن ہوئی اور درآمدات میں کمی کی وجہ سے تقریباً ایک ارب ڈالر کی بچت حاصل کی گئی۔ مزید برآں، ریکوڈک منصوبے میں 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی سمت میں عملی پیشرفت ہوئی اور گیس اور تیل کے شعبے میں 5 ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) میں ڈیجیٹل انوائسنگ اور پوائنٹ آف سیل نظام نافذ کیا گیا، جس سے ٹیکس وصولی کے عمل میں بہتری آئی۔ نجکاری کے عمل میں ای۔آفس نظام اور ڈیجیٹل ریکارڈ روم کا قیام عمل میں آیا، جس سے ادارہ جاتی یادداشت محفوظ کی گئی اور شفافیت میں اضافہ ہوا۔
پی آئی اے کے نجکاری عمل کی براہِ راست نشریات نے شفافیت کی نئی مثال قائم کی، اور سرکاری ڈیٹا اینالیٹکس سینٹر کے قیام سے آڈٹ کے عمل میں بہتری آئی۔
خواتین کے لیے کاروباری پالیسی کے تحت 300,000 خواتین کو معاشی شمولیت کا ہدف مقرر کیا گیا۔ اس کے علاوہ، صنفی تشدد کے خاتمے کے لیے گھریلو تشدد بل 2025 پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے تاکہ خواتین کے حقوق کو مزید محفوظ بنایا جا سکے۔
غربت کے خاتمے کے لیے 165,000 خاندانوں کو پیداواری اثاثے فراہم کیے گئے اور 226,991 افراد کو روزگار اور معاشی تربیت دی گئی۔
بچوں کے حقوق سے متعلق پہلا قومی پورٹل اور مربوط ڈیٹا سسٹم متعارف کرایا گیا، جو بچوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔ اس کے علاوہ، ایس ایم ایز کے شعبے میں 59,000 سے زائد کاروباروں کو مالی اور فنی معاونت فراہم کی گئی ہے۔
سرمایہ کاری کے مواقع کے لیے ایس آئی ایف سی (SIFC) اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کی قیادت میں اصلاحات متعارف کرائی گئیں، جس سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کی توقع ہے۔
سائنس ڈپلومیسی کے تحت چین، ترکی اور ایس سی او ممالک کے ساتھ تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دیا گیا، جس سے پاکستان کی عالمی سطح پر سائنسی اور ٹیکنالوجی کی پوزیشن مستحکم ہوئی۔