Get Alerts

مودی سرکار کا امریکہ کے سامنے 'معاشی سرنڈر'، بھارتی کسانوں کا ملک گیر احتجاج کا اعلان

مودی سرکار کا امریکہ کے سامنے 'معاشی سرنڈر'، بھارتی کسانوں کا ملک گیر احتجاج کا اعلان

نئی دہلی : مودی حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں اور امریکہ کے ساتھ حالیہ یکطرفہ تجارتی معاہدے نے بھارتی کسانوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔ کسان یونینز نے اس ڈیل کو بھارتی زراعت کے لیے "موت کا پروانہ" قرار دیتے ہوئے مودی سرکار کے جھوٹے دعووں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
حیرت انگیز طور پر بھارت کے اپنے جریدے 'دی ٹائمز آف انڈیا' نے بھی مودی سرکار کی اس ڈیل کے تلخ حقائق آشکار کر دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق      یہ تجارتی معاہدہ غیر منصفانہ اور یک طرفہ ہے جس سے کسان برادری میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔    ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے بھارتی زراعت اور ڈیری سیکٹر مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گے۔
بھارتی کسانوں نے مودی حکومت کی نااہلی کے خلاف محاذ کھولتے ہوئے درج ذیل مطالبات پیش کیے ہیں۔  کسانوں نے بھارتی وزیرِ تجارت سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
 کسان رہنماؤں نے وارننگ دی ہے کہ اگر موجودہ شرائط پر دستخط ہوئے تو پورے ملک میں پہیہ جام کر دیا جائے گا۔

    قومی مفاد کا سودا: یونینز کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ دراصل واشنگٹن کے سامنے مودی سرکار کا "سرنڈر" ہے جس میں کسانوں کا سودا کیا گیا۔

ناکام خارجہ پالیسی اور داخلی انتشار

تجزیہ کاروں کے مطابق، مودی حکومت کی پہچان اب خارجہ محاذ پر مسلسل ناکامیاں اور داخلی بدانتظامی بن چکی ہے۔ امریکی دباؤ کے آگے جھکنا مودی کی کمزور اور غیر مؤثر خارجہ پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔ ایک طرف کسان سراپا احتجاج ہیں تو دوسری طرف ماہرین زراعت نے خبردار کیا ہے کہ اس ڈیل سے مقامی مارکیٹ امریکی مصنوعات کی لپیٹ میں آ جائے گی، جس سے کروڑوں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے۔

ٹیگز: