Get Alerts

افغان طالبان کا جابرانہ فوجداری ضابطہ متعارف: قانون کی آڑ میں آمریت اور خوف کا راج مسلط

افغان طالبان کا جابرانہ فوجداری ضابطہ متعارف: قانون کی آڑ میں آمریت اور خوف کا راج مسلط

کابل: افغان طالبان نے ملک میں ایک نیا اور جابرانہ فوجداری ضابطہ (Criminal Code) متعارف کروا دیا ہے، جسے عالمی ماہرین اور جریدے 'یوریشیا' نے آمریت کو قانونی تحفظ دینے اور خوف کا نظام نافذ کرنے کی ایک مذموم کوشش قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، طالبان رجیم اپنے غیر قانونی اقتدار کو طول دینے کے لیے اب 'قانون' کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔
عالمی جریدے 'یوریشیا' نے طالبان کے اس نئے ضابطے کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے درج ذیل سنگین انکشافات کیے ہیں۔  نیا ضابطہ محض ایک قانون نہیں بلکہ نظریاتی جبر اور ریاستی حکمتِ عملی کا ایک ایسا ڈھانچہ ہے جس کا مقصد عوام کو مکمل غلام بنانا ہے۔
 نئے نظام کے تحت 'طبقاتی انصاف' کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے، جس سے معاشرے میں عدم مساوات مزید بڑھے گی۔ طالبان کے اس ضابطے کے تحت افغانستان میں کسی بھی قسم کے مذہبی یا سیاسی تنوع (Diversity) کو سنگین جرم قرار دے دیا گیا ہے۔
نئے فوجداری ضابطے میں انسانی حقوق، بالخصوص خواتین کی آزادی کو مکمل طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔خواتین کی سماجی اور انفرادی خود مختاری کو مزید محدود کر دیا گیا ہے۔
 رپورٹ کے مطابق، نئے ضابطے میں گھریلو تشدد کو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر جائز قرار دیا گیا ہے، جس سے افغان خواتین کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔عالمی ماہرین اور قانونی دانشوروں کا کہنا ہے کہ طالبان کا یہ اقدام مذہبی اقدار کے بنیادی اصولوں کے بھی منافی ہے۔  ماہرین کے مطابق، یہ ضابطہ سماجی اور طبقاتی ناانصافی کو فروغ دے رہا ہے تاکہ خوف کے ذریعے عوام کی آواز کو دبایا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی سے لے کر اس نام نہاد قانون تک، طالبان رجیم کا جابرانہ چہرہ دنیا کے سامنے مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے۔طالبان کا نیا فوجداری ضابطہ انصاف کی فراہمی کے بجائے افغان عوام کو ایک ایسی بند گلی میں دھکیلنے کی کوشش ہے جہاں صرف جبر، ناانصافی اور آمریت کا دور دورہ ہے۔

ٹیگز: