کابل/نیویارک :افغانستان میں طالبان انتظامیہ کی جانب سے نافذ کردہ نیا عدالتی نظام اور فوجداری ضوابط عالمی سطح پر شدید تنقید کی زد میں آگئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ نے اسے خواتین، اقلیتوں اور سیاسی مخالفین کے لیے "خوفناک خطرے کی گھنٹی" قرار دیتے ہوئے فوری واپسی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، طالبان رجیم کا نیا فوجداری ضابطہ انصاف کی فراہمی کے بجائے منظم جبر اور آمریت کو دوام دینے کا ایک ہتھیار ہے۔ اس نئے نظام کے تحت عدالتی کارروائیوں میں شفافیت کے فقدان اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ضوابط اختلافِ رائے رکھنے والوں کو کچلنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق، نیا عدالتی ڈھانچہ خاص طور پر درج ذیل طبقات کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے. خواتین, نئے ضوابط ان کی سماجی آزادیوں اور قانونی تحفظ کو مزید محدود کر دیں گے۔مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کے قانونی جواز پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ طالبان پالیسیوں سے اختلاف کرنے والوں کے لیے کڑی سزائیں اور جبری اقدامات کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے ایک ہنگامی بیان میں طالبان رجیم کے اس نئے حکمنامے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عالمی انسانی حقوق کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ عالمی ادارے نے طالبان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اس نئے عدالتی ضابطے کو فوری طور پر واپس لیں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق انسانی حقوق کا احترام یقینی بنائیں۔
اس نئے حکمنامے کے بعد انسانی حقوق کے عالمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے افغانستان کی عالمی تنہائی میں مزید اضافہ ہوگا اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملنے والی امداد بھی متاثر ہو سکتی ہے۔