تحریر: طارق وسیم
خبر گرم ہے کہ ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ میں پاک بھارت ٹاکرا ہو سکتا ہے ،آئی سی سی کا وفد پاکستان کے دورے پر آیا اور پی سی بی سے درخواست کی کہ وہ بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ واپس لے ۔ چیئر مین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے وفد کو پاکستان کی کچھ ڈیمانڈز دی ہیں ،عمران خواجہ کی قیادت میں آنے والی آئی سی سی وفد کی واپسی ہو چکی ہے ، بھارتی کرکٹ بورڈ اور حکومت کو پاکستان کی شرائط سے آگاہ کر دیا گیا ہے جن پر کل تک فیصلہ کر لیا جائے گا۔ادھر محسن نقوی وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کریں گے جس کے بعد حتمی فیصلہ ہوگا کہ پاکستان بھارت کے خلاف میچ کھیلے گا یا نہیں ۔
پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے پاکستان نے آئی سی سی کے آگے اپنے فنڈز بڑھانے ،کھیل کو سیاست سے دور رکھنے اور بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے باہر رکھنے کا ازالہ شامل کرنے کی شرائط رکھی ہیں ۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کیونکہ ورلڈ کپ کا میزبان ہے ،براڈ کاسٹرز سے ہونے والی آمدنی ان کے ذریعےآئی سی سی تک آنی ہے،اس لیے انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کے ڈپٹی چیئر مین عمران خواجہ کل تک بی سی سی آئی سے رابطہ کر کے پاکستان کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیں گے اور یوں اتوا ر کو شیڈول پاک بھارت میچ کولمبو میں منعقد ہو گا،سب کچھ بتانے والے ذرائع ابھی تک یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے نکالنے کا ازالہ کیونکر ہوگا ،کیا انہیں ورلڈ کپ آمدنی سے اتنے ہی رقم دی جائے گی، جو بائیکاٹ نہ کرنے کی صورت میں انہیں ملنی تھی ،کیونکہ سکاٹ لینڈ کی ٹیم ان کی جگہ ورلڈ کپ میں شامل کی جا چکی ہے اور وہ گروپ سٹیج کا پہلا میچ بھی کھیل چکے ہیں ، اس لیے بنگلہ دیش کی ورلڈ کپ میں واپسی تو خارج از امکان ہی نظر آتی ہے ۔
کرکٹ میں وائلڈ کارڈ انٹری کا تصور نہیں ہے ،ویسے بھی عمومی طور پر ٹیم گیمز میں وائلڈ کارڈ انٹری نہیں ہوتی بالخصوص ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ میں، لیکن جب سب انہونیاں ہو رہی ہیں تو بنگلہ دیش کی ورلڈ کپ میں واپسی بھی ہونی چاہیے ،مستفیض الرحمان سے معافی مانگنا اور انہیں اتنی رقم دے دینا جو آئی پی ایل میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز سے طے ہوئی تھی ، پی سی بی کی جانب سے پیش کی گئی شرائط میں شامل ہے ۔آئی سی سی کے وفد سے مذاکرات کے دوران بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے چیئر مین امین الاسلام بھی موجود تھے۔
دس گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی بات چیت میں سری لنکا اور متحدہ عرب امارات کے کرکٹ بورڈز کے چیئرمین بھی شریک ہوئے، پاکستان کو قائل کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ بھارت سے میچ کا بائیکاٹ نہ کرے ،جس کے بعد امین الاسلام ڈھاکہ واپس چلے گئے،اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کو بھارت سے صرف اس لیے میچ کھیل لینا چاہیے کہ وہ منت سماجت کر رہے ہیں اور رقم بھی مل رہی ہے ،اگر زر تلافی ملنے پر بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ مطمئن ہے تو اسے ورلڈ کپ سے باہررہنے دینا چاہیے؟۔
پاکستانی عوام کی اکثریت بھارت سے میچ کھیلنے کے حق میں نہیں، جبکہ بنگلہ دیش کے لوگ پاکستان کے اوپر بے حد انحصار کر رہے ہیں ،امین الاسلام اور بنگلہ دیشی حکومت تما م باتیں مان بھی جاتی ہے وہاں کے عوام نہیں مانیں گے ،پاکستان کی شہرت اس معاملے میں پہلے ہی اچھی نہیں ،امریکی ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عافیہ صدیقی کیس کی سماعت کے دوران ہمارے بارے میں جو ریمارکس دیے تھے وہ تاریخ کا حصہ ہیں اور گاہے گاہے ہمیں یہ طعنہ سننا بھی پڑھتا ہے ، ہو سکتا ہے بھارت سے میچ کھیل کر آپ کچھ ٹکے کمالیں لیکن بھارت کی تباہ ہوئی ساکھ کو مکمل بحال کر دیں گے ،جسے نہ تو نریندر مودی بحال کر سکا نہ اس کا جھوٹ بیچتا میڈیا ۔
ہمارے ملک کو ناقابل تلافی سیاسی نقصان ہوگا اور بنگلہ دیش سے پینتالیس سال بعد بہتر ہوتے تعلقات کو کاری ضر ب لگے گی ،بنگالی عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی ،بنگلہ دیش میں بھارت کی سیاسی پوزیشن بہتر ہوجائے گی اور حسینہ واجد اور اس کی پارٹی کو سیاسی آکسیجن مل جائے گا ،بھارت کا آئی سی سی پر غلبہ برقرار رہے گا ،وہ دنیا میں ڈھنڈورا پیٹے گا کہ ہم نے پیسے دے کر میچ کھیلنے پر راضی کر لیا ،ورلڈ کپ ختم ہونے کے بعد ان کا میڈیا نئی کمپین چلائے گا ۔ اگر آپ کے لیے یہ باتیں اہم نہیں تو کھیل لیں میچ ہم دیکھ بھی لیں گے۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔