Get Alerts

حکومت اوردھرنا کمیٹی میں مذاکرات کامیاب ، شہدا کو تدفین کی اجازت

حکومت اوردھرنا کمیٹی میں مذاکرات کامیاب ، شہدا کو تدفین کی اجازت
سورس: File photo

کوئٹہ، 

حکومت کی طرف  سےوزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال علی زیدی ،ذلفی بخاری نے ہزارہ برادری کے ساتھ مذاکرات کئے گئے ۔ 

مذاکرات کی کامیابی کے بعد ہزارہ برادری کی طرف سے کہا گیا کہ ہمارے مطالبات مان لئے گئے ہیں ۔ 

اس موقع پر رہنما تحریک انصاف علی زیدی نے کہا کہ 

میری اوقات نہیں کہ میں کھڑا ہوکر بات کرسکوں لیکن اللہ نے ایک مقام پر بٹھایا ہے تو اس لئے کچھ بات کردوں گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایکدوسرے کو اپنا سمجھنا چاہئے ۔ بائیس سال سے ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ جو ہورہا ہے افسوسناک ہے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ پورے پاکستان میں جس بھی برادری کے ساتھ زیادتی ہورہی ہےوہ اب ختم ہونی چاہئے ۔ میں نے میٹنگ میں علماء کرام سے گذارش کی تھی 

جام کمال کا شکر گذار ہوں کہ انہوں ںے ہمیں اتنے دن برداشت کیا ۔قاسم سوری ،آغا رضا ،زلفی بخاری ، 

اگر پاکستان میں گورننس صحیح ہو تی تو اس ملک میں غربت نہ ہوتی پاکستان طاقتور ملک ہے اس میں ہمیں سب کچھ ملا ہے ہمیں صرف گورننس نہیں ملی ۔ اگر گورننس ہوتی تو ایسی محفلیں نہ ہوتیں دھرنے نہ ہوتے بے گناہ لوگ شہید نہ ہوتے ۔ ہم کوشش کررہے ہیں کہ ستر سال کی چیزوں کو ٹھیک کیا جائے تو بہت ساری قوتیں ہمیں آگے بڑھنے سے روکتی ہیں ۔ 

بلوچستان میں اتنی طاقت ہے کہ اگر بلوچستان اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو پاکستان کے مسائل ختم ہوسکتے  ہیں ۔ بلوچستان میں سب سے زیادہ وسائل ہیں اور وہ سب سے زیادہ پیچھے رہ گیا ہے ۔ انشاء اللہ یہ چیزیں ٹھیک ہوں گی ناامید نہیں ہوناچاہئے ۔ہم تو ان کے ماننے والے ہیں جو کربلا میں بھی ناامید نہیں ہوئے ۔مسائل ہیں لیکن اگر ہم اکٹھے ہوکر کام کریں گے تو ہم اس کا مقابلہ کریں گے  ۔جتنے سالوں سے یہ ہوتا آیا ہے کبھی کسی حکومت نے آکر ہزارہ برادری سے تحریری معاہدہ نہیں کیا صرف وعدے کئے اور چلے گئے ۔ شہداء کمیٹی نے ہمارے سامنے جو مطالبات رکھے ان پر عمل ہوچکا ہے ۔ جن افسران کی معطلی کا کہا گیا تھا وہ معطل ہوچکے ہیں ۔ ایک ہائی لیول کمشن بنا ہے جس کو ضیا ء اللہ سربراہ ہوں گے ۔ بلوچستان حکومت کے دو سینئر افسران ہوں گے ایک پولیس افسر ڈی آئی جی رینک کا ہوگا اور دو شہدا کمیٹی کے عہدیدار ہوں گے جو مہینے میں ایک مرتبہ ملاقات کرے گی اور جو بھی پراگریس ہوگی وہ بتائیں گے ۔ 

ٹیگز: