Get Alerts

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو آگ لگ گئی: فی بیرل 115 ڈالر سے تجاوز، برطانیہ اور سپین میں قلت

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو آگ لگ گئی: فی بیرل 115 ڈالر سے تجاوز، برطانیہ اور سپین میں قلت

لندن/میڈرڈ : مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی توانائی کی منڈی شدید بحران کا شکار ہو گئی ہے۔ خام تیل کی قیمتیں حالیہ برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس سے دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر کی نفسیاتی حد عبور کر گئی ہے۔    برینٹ کروڈ 23 فیصد اضافے کے ساتھ 114.36 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا۔    امریکی خام تیل (WTI)، 27 فیصد اضافے کے بعد 115.11 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
    ماہرین کی وارننگ: معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی اور سپلائی لائنز (خصوصاً آبنائے ہرمز) متاثر رہیں تو قیمتیں جلد 120 سے 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔
برطانوی میڈیا نے سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ جنگ کے باعث سپلائی متاثر ہونے سے برطانیہ کے پاس تیل کا ذخیرہ صرف دو دن کا رہ گیا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد ملک بھر میں توانائی کے تحفظ کے حوالے سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور حکومت ہنگامی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
سپین میں بھی تیل کی قلت کے باعث صورتحال ابتر ہو گئی ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں پیٹرول پمپس پر ایندھن ختم ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کی وجہ سے گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ شہریوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور لوگ مستقبل کی قیمتوں میں اضافے سے بچنے کے لیے ٹینکیاں بھروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ نے نہ صرف یورپ بلکہ ایشیائی ممالک کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین کے مطابق، توانائی کے اس بحران سے عالمی سطح پر مہنگائی کا ایک نیا طوفان آنے کا خدشہ ہے جو ٹرانسپورٹیشن اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو براہِ راست متاثر کرے گا۔

ٹیگز: