Get Alerts

اسلام آباد میں عالمی سفارت کاری کا بڑا مرکز: امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات آئندہ ہفتے متوقع

اسلام آباد میں عالمی سفارت کاری کا بڑا مرکز: امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات آئندہ ہفتے متوقع

اسلام آباد/واشنگٹن: عالمی سیاست میں پاکستان ایک بار پھر "پل" کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکی اخبار 'دی وال اسٹریٹ جرنل' کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہونے کا قوی امکان ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان گزشتہ کئی ہفتوں سے بیک ڈور ڈپلومیسی (خفیہ سفارت کاری) جاری ہے، جس میں پاکستان کلیدی رابطہ کار اور ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام اسلام آباد میں میز پر بیٹھیں گے تاکہ برسوں پرانی کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور 'پروجیکٹ فریڈم' جیسے منصوبوں کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔
سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اسلام آباد مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو 'پروجیکٹ فریڈم پلس' کا فوری آغاز ہو جائے گا، جس سے خطے میں معاشی خوشحالی آئے گی۔ ایران کی جانب سے مثبت جواب کی توقع اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششیں، اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ عالمی طاقتیں اب محاذ آرائی کے بجائے بات چیت کو ترجیح دے رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ روس یوکرین کے درمیان حالیہ تین روزہ جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلنا چاہتے ہیں۔ اسی سلسلے میں ایران کے ساتھ تعلقات کی بہتری کو بھی ان کے "گریٹ ڈیل" ایجنڈے کا حصہ دیکھا جا رہا ہے۔
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑی تاریخی فتح ہوگی، جو دو دیرینہ حریفوں کو ایک میز پر لانے میں کامیاب رہا۔

ٹیگز: