غزہ: جنگ بندی کے باوجود جنوبی غزہ کے شہر خان یونس اور رفاہ میں اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں، جس کے نتیجے میں مکانات کی تباہی اور شہدا کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق، امدادی کارکن ملبے سے لاشوں کو نکالنے میں مصروف ہیں، اور حالیہ فضائی حملوں میں 9 مزید شہداء کی میتیں نکالی جا چکی ہیں۔ 10 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 241 فلسطینی شہید جبکہ 614 زخمی ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی غزہ میں مجموعی طور پر شہداء کی تعداد 69,169 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 1 لاکھ 70 ہزار 685 فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔
غزہ پٹی میں امدادی سامان کی فراہمی میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں، اور بنیادی سہولتوں کی کمی کے باعث انسانی بحران مزید گہرا ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ اور مختلف غیر ملکی امدادی ادارے غزہ میں پھنسے ہوئے شہریوں تک امداد پہنچانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہے ہیں، لیکن ابھی تک رسائی میں بڑی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
خوراک، پانی اور دواؤں کی کمی نے فلسطینیوں کی حالت مزید سنگین کر دی ہے۔ عالمی تنظیموں نے اسرائیلی اور مقامی حکام سے فوری طور پر امدادی سامان کی بلا روک ٹوک ترسیل کی اپیل کی ہے تاکہ انسانی بحران کو کم کیا جا سکے اور زخمیوں کے علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے۔