پشاور:خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے استعفے کو لے کر متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ ایک جانب پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری اطلاعات وقاص اکرم شیخ کا دعویٰ ہے کہ استعفیٰ گورنر ہاؤس کو باقاعدہ موصول ہو چکا ہے، جبکہ دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس خبر کو "فیک نیوز" قرار دے دیا ہے۔
گورنر کنڈی کا کہنا ہے کہ "میرے پاس علی امین گنڈاپور کا کوئی باضابطہ استعفیٰ نہیں آیا۔ جب بھی آفیشلی استعفیٰ موصول ہوگا، قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ادھر پی ٹی آئی کے رہنما وقاص اکرم شیخ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری بیان میں کہا کہ "علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ گزشتہ رات پونے گیارہ بجے گورنر ہاؤس کے اسٹاف نے وصول کیا، اور اس کی باقاعدہ وصولی بھی لکھ کر دی گئی۔"
انہوں نے مزید بتایا کہ استعفیٰ گورنر کے ملٹری سیکریٹری (ایم ایس) سے کوآرڈی نیشن کے بعد بھیجا گیا تھا، اور اب گورنر کی جانب سے لاعلمی ظاہر کرنا حیران کن ہے۔
دوسری جانب علی امین گنڈاپور نے خود سوشل میڈیا پر اپنا تحریری استعفیٰ شیئر کرتے ہوئے باضابطہ طور پر وزارتِ اعلیٰ سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے۔
انہوں نے ایک جذباتی پیغام میں کہا "میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں ہر محاذ پر کامیاب رہا، مگر یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے صوبے کے عوام کی خدمت پوری دیانتداری سے کی۔"
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا، جو ماضی میں ایک جنگ زدہ علاقہ سمجھا جاتا تھا، وہاں قومی تعمیر کے کئی بڑے منصوبے شروع کیے گئے۔گنڈاپور نے پی ٹی آئی کے بانی سے وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزارتِ اعلیٰ چھوڑ کر اب عوام کے درمیان جائیں گے اور اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
انہوں نے اپنی کابینہ، صوبائی اسمبلی کے اراکین اور بیوروکریسی کا شکریہ ادا کیا اور اپنے پیغام کا اختتام ان الفاظ میں کیا۔"پاکستان زندہ باد، پی ٹی آئی پائندہ باد!"