Get Alerts

وفاقی پنشنرز کے لیے بڑا ریلیف، نیا ڈیجیٹل نظام نافذ

وفاقی پنشنرز کے لیے بڑا ریلیف، نیا ڈیجیٹل نظام نافذ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پنشنرز کے لیے ڈیجیٹل پنشن نظام متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت ہر چھ ماہ بعد بینک جاکر بائیومیٹرک تصدیق کرانے کی پابندی ختم کردی گئی ہے۔ تاہم پنشنرز کو ہر چھ ماہ کے بعد نادرا ایپ کے ذریعے اپنی زندگی کی تصدیق کرنا ہوگی۔

وزارت خزانہ نے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر نئے پنشن نظام سے متعلق باضابطہ نوٹیفکیشن اور ضروری دستاویزات جاری کردی ہیں۔ نئے طریقہ کار کے تحت پنشن کے لیے استعمال ہونے والے کاغذی فارم اور روایتی کارروائی کو ختم کردیا گیا ہے، جبکہ پنشن کی رقم براہِ راست متعلقہ افراد کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے گی۔

حکومت کے مطابق نئے نظام کا مقصد پنشن کے عمل کو آسان، تیز اور زیادہ شفاف بنانا ہے تاکہ بزرگ شہریوں کو بار بار بینکوں کے چکر لگانے اور بائیومیٹرک تصدیق کی دشواری سے نجات مل سکے۔

وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ عمر رسیدہ پنشنرز کے لیے زندگی کی تصدیق کا متبادل طریقہ بھی دستیاب ہوگا، تاکہ ایسے افراد کو سہولت فراہم کی جاسکے جو ڈیجیٹل طریقہ کار استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

نئے نظام میں بینکوں کا کردار بھی محدود کردیا گیا ہے۔ بینک صرف پنشن کی ادائیگی اور رقم متعلقہ اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کے ذمہ دار ہوں گے، جبکہ پنشنر کی بائیومیٹرک تصدیق یا زندگی کے ثبوت سے متعلق معلومات جمع کرنے کا اختیار بینکوں کے پاس نہیں ہوگا۔

حکومت نے نادرا کے ڈیجیٹل نظام کو کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس (CGA) اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل (MAG) کے نظام سے منسلک کردیا ہے۔ اس رابطے کے ذریعے پنشنر کی ڈیجیٹل لائف ویریفکیشن براہِ راست متعلقہ سرکاری اداروں تک پہنچائی جائے گی، جس سے تصدیقی عمل مزید آسان اور مؤثر ہونے کی توقع ہے۔

نئے ڈیجیٹل پنشن نظام کا اطلاق وفاقی حکومت کے تمام سول ملازمین پر ہوگا۔ اس اقدام کے ذریعے پنشن کے روایتی نظام کو جدید ڈیجیٹل طریقہ کار میں تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ پنشنرز کے لیے سہولت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ٹیگز: