Get Alerts

90 سال پرانا پیچیدہ ریاضیاتی مسئلہ 88 گھنٹوں میں حل، اوپن اے آئی کا بڑا دعویٰ

90 سال پرانا پیچیدہ ریاضیاتی مسئلہ 88 گھنٹوں میں حل، اوپن اے آئی کا بڑا دعویٰ

کیلیفورنیا: اوپن اے آئی نے ریاضی کے ایک انتہائی مشکل اور تقریباً 90 سال پرانے مسئلے، ’نیویئر اسٹوکس‘ کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس پیچیدہ مسئلے پر تقریباً 10 ہزار اے آئی ایجنٹس نے مسلسل کام کرتے ہوئے صرف 88 گھنٹوں میں ممکنہ حل تیار کیا۔ تاہم ایک معروف ریاضی دان نے اس دعوے پر سوالات اٹھاتے ہوئے معاملے کی مزید جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی اوپن اے آئی نے منگل کو بتایا کہ اس نے ایک ایسا جدید نظام تیار کیا جس میں اے آئی ایجنٹس کو مختلف گروپس میں تقسیم کرکے پیچیدہ ریاضیاتی مسئلے پر کام کرایا گیا۔ ان ایجنٹس کو انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات کا جائزہ لینے اور کوڈ چلانے کی سہولت حاصل تھی۔

کمپنی کے مطابق تقریباً 10 ہزار ایجنٹس پر مشتمل گروپ نے یکم ستمبر کو اس مسئلے پر کام شروع کیا اور 5 ستمبر کو 88 گھنٹے کی مسلسل کوشش کے بعد ایک حل پیش کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

نیویئر اسٹوکس مسئلہ سیال مادوں اور ہوا کے بہاؤ سے متعلق پیچیدہ ریاضیاتی مساوات سے جڑا ہوا ہے۔ اسے دنیا کے مشکل ترین ریاضیاتی مسائل میں شمار کیا جاتا ہے۔ کلے میتھمیٹکس انسٹی ٹیوٹ نے 2000 میں اسے سات ملینیم پرائز مسائل میں شامل کیا تھا اور اس کے درست حل کے لیے 10 لاکھ ڈالر کا انعام بھی مقرر ہے۔

تاہم نیویارک یونیورسٹی کے پروفیسر ٹرسٹن بک ماسٹر نے اوپن اے آئی کے دعوے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق وہ حریف کمپنی اینتھروپک سے وابستہ ریاضی دان لیونٹ الپوگے کے ساتھ پہلے ہی اسی مسئلے پر تحقیق کر رہے تھے۔

پروفیسر بک ماسٹر کا کہنا ہے کہ اوپن اے آئی کی جانب سے پیش کیے جانے والے طریقہ کار میں ان کی نجی تحقیق کے ساتھ حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا اوپن اے آئی کو ان کے کووڈیکس سیشنز یا تحقیقی ڈیٹا تک کسی طرح رسائی حاصل ہوئی تھی۔

دوسری جانب اوپن اے آئی نے ان خدشات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی نے اس مسئلے پر یکم ستمبر کو اس وقت کام شروع کیا جب اسے متعلقہ ریاضی دانوں کی تحقیق سے متعلق معلومات یا افواہوں کا علم ہوا۔ کمپنی نے واضح کیا کہ کسی فرد کا نجی ڈیٹا استعمال نہیں کیا گیا، تاہم اس امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ عمومی صارف ڈیٹا نے غیر ارادی طور پر ماڈل کی کارکردگی بہتر بنانے میں کوئی کردار ادا کیا ہو۔

ابھی تک کلے میتھمیٹکس انسٹی ٹیوٹ نے اوپن اے آئی کی جانب سے پیش کیے گئے مبینہ حل کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی اور نہ ہی اس معاملے پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے آیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر اوپن اے آئی کا پیش کردہ ریاضیاتی ثبوت مکمل جانچ کے بعد درست ثابت ہوجاتا ہے تو یہ مصنوعی ذہانت اور سائنسی تحقیق کی دنیا میں ایک غیر معمولی پیش رفت ہوگی، کیونکہ نیویئر اسٹوکس مسئلہ جدید ریاضی اور سیال حرکیات کے سب سے مشکل حل طلب مسائل میں شمار ہوتا ہے۔

ٹیگز: